کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا أَبُو طَاهِرٍ سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعُرْبَانِ الزَّاهِدُ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ مِقْسَمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَرْبَعٌ كُلُّهُنَّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَزَادَ قَالَ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ: أَفَرَأَيْتَ الْحَيَّةَ، قَالَ: تُقْتَلُ بِصِغَرِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”چار چیزیں ساری کی ساری بری ہیں، حل و حرم میں ان کو قتل کیا جائے گا: (1) چیل (2) کوا (3) چوہیا (4) باولا کتا۔“
(ب) ہارون بن سعید وغیرہ ابن وہب سے نقل فرماتے ہیں اور انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ میں نے قاسم سے کہا: آپ کا سانپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہنے لگے: چھوٹے کو بھی قتل کیا جائے گا۔
(ب) ہارون بن سعید وغیرہ ابن وہب سے نقل فرماتے ہیں اور انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ میں نے قاسم سے کہا: آپ کا سانپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہنے لگے: چھوٹے کو بھی قتل کیا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا الْقَاضِي أَبُو الْهَيْثَمِ عُتْبَةُ بْنُ خَيْثَمَةَ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهَا فَاسِقٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةَ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ جانور موذی ہیں، وہ حرم میں بھی قتل کیے جائیں گے: کوا، چیل، ہلکا کتا، بچھو اور چوہیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، رَحِمَهُ اللهُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَقَالَ: الْحَيَّةُ بَدَلَ الْعَقْرَبِ، وَكَأَنَّ شُعْبَةَ كَانَ شَكَّ فِي ذَلِكَ ⦗٣٤٣⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پانچ جانور برے ہیں، حل و حرم میں ان کو قتل کیا جائے گا: (1) چوہیا (2) بچھو (3) چیل (4) ہلکا کتا (5) سیاہی و سفیدی والا کوا۔“
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " خَمْسٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ " ثُمَّ ذَكَرَ الْبَوَاقِيَ، وَكَأَنَّ رِوَايَةَ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ أَصَحُّ؛ لِمُوَافَقَتِهَا سَائِرَ الرِّوَايَاتِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنُ الْمُسَيِّبِ إِنَّمَا رَوَى الْحَدِيثَ فِي الْحَيَّةِ وَالذِّئْبِ مُرْسَلًا وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ”پانچ چیزوں کو حل و حرم میں قتل کیا جائے گا: سانپ، بچھو،“ پھر باقی کا ذکر کیا۔
گویا ابوداؤد طیالسی کی روایت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی دیگر روایات کے موافق ہے، اور ابن مسیب رحمہ اللہ نے سانپ اور بھیڑیے والی حدیث مرسلاً ہی روایت کی ہے، اور وہ ان شاء اللہ آگے آئے گی۔
گویا ابوداؤد طیالسی کی روایت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی دیگر روایات کے موافق ہے، اور ابن مسیب رحمہ اللہ نے سانپ اور بھیڑیے والی حدیث مرسلاً ہی روایت کی ہے، اور وہ ان شاء اللہ آگے آئے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَى الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ: الْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ قسم کے جانور قتل کرنے میں محرم پر کوئی گناہ نہیں ہے: (1) کوا، (2) چیل، (3) بچھو، (4) چوہیا، (5) باولا کاٹنے والا کتا۔“ [صحیح: بخاری: 1730]
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ مِنَ الدَّوَابِّ؟، قَالَ: " الْفَأْرَةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " قُلْتُ لِنَافِعٍ: الْحَيَّةُ، قَالَ: الْحَيَّةُ لَا يُخْتَلَفُ فِيهَا، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كَامِلٍ، عَنْ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا کہ کون سے چوپائے محرم قتل کر سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چوہیا، بچھو، کوا، چیل اور کاٹنے والا کتا۔“ میں نے نافع سے کہا: کیا سانپ بھی؟ انہوں نے فرمایا کہ سانپ کے بارے میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ الْمَخْرَمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْغُرَابُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْعَقْرَبُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَابْنِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”پانچ قسم کے جانوروں کو حل و حرم میں قتل کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے: کوا، چوہیا، کاٹنے والا کتا، چیل، بچھو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو ⦗٣٤٤⦘ عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: قَالَتْ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَوَاسِقُ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ: الْعَقْرَبُ، وَالْغُرَابُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " لَفْظُ حَدِيثِ حَرْمَلَةَ وَفِي رِوَايَةِ أَصْبَغَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ لَا حَرَجَ عَلَى مَنْ قَتَلَهُنَّ " ثُمَّ ذَكَرَهُنَّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَصْبَغَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ حَرْمَلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ: ”پانچ جانور برے ہیں جو ان کو قتل کرے اس پر کوئی گناہ نہیں ہے: بچھو، کوا، چیل، چوہیا، کاٹنے والا کتا۔“
(ب) اصبغ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے“، پھر ان کا تذکرہ فرمایا۔
(ب) اصبغ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہے“، پھر ان کا تذکرہ فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ يُونُسَ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَمْسٌ قَتْلُهُنَّ حَلَالٌ فِي الْحَرَمِ: الْحَيَّةُ، وَالْعَقْرَبُ، وَالْحِدَأَةُ، وَالْفَأْرَةُ، وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پانچ قسم کے جانوروں کو حرم میں قتل کرنا جائز ہے: سانپ، بچھو، چیل، چوہیا، کاٹنے والا کتا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِمَا بِخُسْرَوْجِرْدَ قَالَا: أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَيَرْمِي الْغُرَابَ وَلَا يَقْتُلُهُ وَيَقْتُلُ الْكَلْبَ الْعَقُورَ وَالْفُوَيْسِقَةَ وَالْحِدَأَةَ وَالسَّبُعَ الْعَادِيَ " رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السِّيرَةِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”محرم سانپ اور بچھو کو قتل کر سکتا ہے اور کوے کو (کچھ) مارے لیکن قتل نہ کرے۔ اور کاٹنے والے کتے، چوہیا، چیل اور حملہ آور درندے کو قتل کر سکتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ يَحْيَى،.
حافظ ثناء اللہ
ابوالحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ابوالحسن علی بن محمد مصری نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: مالک بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی (یہ سند اگلی روایت سے متصل ہے)۔
ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الذِّئْبِ وَالْفَأْرَةِ وَالْحِدَأَةِ " فَقِيلَ لَهُ: وَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ، فَقَالَ: " قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَلِكَ " قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: يَعْنِي الْمُحْرِمَ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، ⦗٣٤٥⦘ وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلًا جَيِّدًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بھیڑیے، چوہیا اور چیل کو قتل کرنے کا حکم دیا“، ان سے کہا گیا: اور سانپ اور بچھو؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ بھی کہا جاتا تھا۔ یزید بن ہارون کہتے ہیں: یعنی محرم (انہیں قتل کر سکتا ہے)۔
حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں ہے، اور ہم نے یہ (روایت) ابن مسیب رحمہ اللہ کی حدیث سے عمدہ مرسل سند کے ساتھ بھی روایت کی ہے۔
حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں ہے، اور ہم نے یہ (روایت) ابن مسیب رحمہ اللہ کی حدیث سے عمدہ مرسل سند کے ساتھ بھی روایت کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَيَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حَرْمَلَةَ الْأَسْلَمِيَّ، أَخْبَرَهُمْ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ الْحَيَّةَ وَالذِّئْبَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”محرم سانپ اور بھیڑیے کو قتل کر سکتا ہے۔“
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فِي الْحَيَّةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے سانپ کے بارے میں اس کی مثل نقل فرماتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَوَثَبَتْ عَلَيْنَا حَيَّةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتُلُوهَا " فَابْتَدَرْنَا فَسَبَقَتْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وُقِيَتْ شَرَّكُمْ كَمَا وُقِيتُمْ شَرَّهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ میں تھے کہ اچانک ہمارے سامنے سانپ آگیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو۔“ ہم نے جلدی کی اور سانپ ہم سے سبقت لے گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہارے شر سے محفوظ رکھا گیا جیسے تم اس کے شر سے محفوظ رہے۔“
وَرَوَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مُخْتَصَرًا " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُحْرِمًا بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوکریب نے حفص بن غیاث رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”محرم کو منیٰ میں سانپ قتل کرنے کا حکم دیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ " وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَقَدْ سَمِعَهُ غَيْرُهَا يَأْمُرُ بِقَتْلِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھپکلی چھوٹا موذی جانور ہے۔“ لیکن میں نے آپ ﷺ کو اس کے قتل کا حکم دیتے نہیں سنا۔
(ب) یونس، ابن شہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے علاوہ کسی دوسرے نے سنا کہ آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔
(ب) یونس، ابن شہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے علاوہ کسی دوسرے نے سنا کہ آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْوَزَغِ وَسَمَّاهُ فُوَيْسِقًا " لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”چھپکلی کو قتل کرنے کا حکم دیا، اور اس کا نام «فُوَيْسِقٌ» رکھا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، أنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ بِقَتْلِ الْأَوْزَاغِ "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللهِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”چھپکلیوں کو قتل کرنے“ کا حکم دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، يَقُولُ: وَأِيُّ كَلْبٍ أَعْقَرُ مِنَ الْحَيَّةِ؟، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: " كُلُّ شَيْءٍ يَعْقِرُكَ فَهُوَ الْعَقُورُ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ کون سا کتا سانپ سے زیادہ کاٹنے والا ہے؟ حمیدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہر وہ چیز جو تجھے کاٹے وہ «عَقُورٌ» ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: " الْكَلْبُ الْعَقُورُ الَّذِي أُمِرَ الْمُحْرِمُ بِقَتْلِهِ، إِنَّ كُلَّ مَا عَقَرَ النَّاسَ وَعَدَا عَلَيْهِمْ وَأَخَافَهُمْ مِثْلَ الْأَسَدِ وَالنَّمِرِ وَالْفَهْدِ وَالذِّئْبِ فَهُوَ الْكَلْبُ الْعَقُورُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن بکیر کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کاٹنے والا کتا جس کو قتل کرنے کا محرم کو حکم دیا گیا ہے، (اس سے مراد) ہر وہ جانور ہے جو لوگوں کو کاٹے، ان پر حملہ کرے اور ان کو خوف زدہ کرے، جیسے شیر، چیتا، تیندوا اور بھیڑیا، یہی کاٹنے والا کتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، فِي قَوْلِهِ: " وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ "، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَ: مَعْنَاهُ " كُلُّ سَبُعٍ يَعْقِرُ، وَلَمْ يَخُصَّ بِهِ الْكَلْبَ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَدْ يَجُوزُ فِي الْكَلَامِ أَنْ يُقَالَ لَلسَّبُعِ: كَلْبٌ، أَلَا تَرَى أَنَّهُمْ يَرْوُونَ فِي الْمَغَازِي أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي لَهَبٍ كَانَ شَدِيدَ الْأَذَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " اللهُمَّ سَلِّطْ عَلَيْهِ كَلْبًا مِنْ كِلَابِكَ " فَخَرَجَ عُتْبَةُ إِلَى الشَّامِ مَعَ أَصْحَابِهِ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَطَرَقَهُمُ الْأَسَدُ فَتَخَطَّى إِلَيْهِ مِنْ بَيْنِ أَصْحَابِهِ فَقَتَلَهُ، فَصَارَ الْأَسَدُ هَا هُنَا قَدْ لَزِمَهُ اسْمُ الْكَلْبِ، قَالَ: وَمِنْ ذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى {وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ} [المائدة: ٤] فَهَذَا اسْمٌ مُشْتَقٌّ مِنَ الْكَلْبِ، ثُمَّ دَخَلَ فِيهِ صَيْدُ الْفَهْدِ وَالصَّقْرِ وَالْبَازِيِّ فَلِهَذَا قِيلَ: لِكُلِّ جَارِحٍ أَوْ عَاقِرٍ مِنَ السِّبَاعِ كَلْبٌ عَقُورٌ، ⦗٣٤٧⦘ وَرُوِّينَا عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: " أَمَرَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ نَقْتُلَ الْحَيَّةَ، وَالْعَقْرَبَ، وَالْفَأْرَةَ وَالزُّنْبُورَ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبید «كَلْبٌ عَقُورٌ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ہر کاٹنے والا درندہ مراد ہے، یہ کتے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔“
(ب) ابوعبید کہتے ہیں کہ کلام میں درندے کو کتا بھی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ مغازی میں مروی ہے کہ عتبہ بن ابی لہب نبی کریم ﷺ کو سخت ایذا دیتا تھا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔“ تو عتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شام کی طرف گیا، اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو شیر نے ان کو پا لیا اور ان کے درمیان سے عتبہ کو قتل کر دیا تو یہاں شیر کو کتے کا نام دیا گیا ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”اور جو تم نے اپنے شکاری کتوں کو سدھا رکھا ہو۔“ یہ اسم بھی «كَلْبٌ» سے مشتق ہے پھر اس میں تیندوا، شکرہ اور باز کا شکار بھی داخل ہے، اس لیے ہر زخمی کرنے والے اور کاٹنے والے درندے کو «كَلْبٌ عَقُورٌ» کہتے ہیں۔
(ج) سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم بچھو، سانپ، چوہیا اور بھڑ کو محرم ہونے کی حالت میں بھی قتل کر دیں۔
(ب) ابوعبید کہتے ہیں کہ کلام میں درندے کو کتا بھی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ مغازی میں مروی ہے کہ عتبہ بن ابی لہب نبی کریم ﷺ کو سخت ایذا دیتا تھا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! اس پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔“ تو عتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شام کی طرف گیا، اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو شیر نے ان کو پا لیا اور ان کے درمیان سے عتبہ کو قتل کر دیا تو یہاں شیر کو کتے کا نام دیا گیا ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”اور جو تم نے اپنے شکاری کتوں کو سدھا رکھا ہو۔“ یہ اسم بھی «كَلْبٌ» سے مشتق ہے پھر اس میں تیندوا، شکرہ اور باز کا شکار بھی داخل ہے، اس لیے ہر زخمی کرنے والے اور کاٹنے والے درندے کو «كَلْبٌ عَقُورٌ» کہتے ہیں۔
(ج) سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم بچھو، سانپ، چوہیا اور بھڑ کو محرم ہونے کی حالت میں بھی قتل کر دیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: أَوَّلَ مَا رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْحَيَّةِ يَقْتُلُهَا الْمُحْرِمُ، قَالَ: " هِيَ عَدُوٌّ فَاقْتُلُوهَا حَيْثُ وَجَدْتُمُوهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا محرم سانپ کو قتل کر دے؟ فرمانے لگے: یہ دشمن ہے، تم جہاں بھی اس کو پاؤ قتل کر دو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَذَكَرُوا لَهُ قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ: " فِي الْفَأْرَةِ جَزَاءٌ إِذَا قَتَلَهَا الْمُحْرِمُ " فَقَالَ حَمَّادٌ: " مَا كَانَ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ أَوْحَشَ بِرَدِّ الْآثَارِ مِنْ إِبْرَاهِيمَ؛ وَذَلِكَ لِقِلَّةِ مَا سَمِعَ مِنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا كَانَ رَجُلٌ بِالْكُوفَةِ أَحْسَنَ اتِّبَاعًا وَلَا أَحْسَنَ اقْتِدَاءً مِنَ الشَّعْبِيِّ؛ وَذَلِكَ لِكَثْرَةِ مَا سَمِعَ ".
حافظ ثناء اللہ
بشر بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حماد بن زید رحمہ اللہ کے سامنے ابراہیم رحمہ اللہ کا یہ قول ذکر کیا گیا: ”جب محرم آدمی چوہیا کو قتل کر دے تو اس میں جزا (فدیہ) ہے۔“ تو حماد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کوفہ میں ابراہیم سے بڑھ کر آثار کو رد کرنے میں بے باک کوئی آدمی نہ تھا، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے نبی ﷺ کی احادیث بہت کم سنی تھیں، اور نہ ہی کوفہ میں حضرت شعبی رحمہ اللہ سے بڑھ کر اچھی اتباع اور اچھی اقتدا کرنے والا کوئی آدمی تھا، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے احادیث زیادہ سن رکھی تھیں۔“
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ يَعْنِي الدَّيْنَوَرِيَّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِدْرِيسَ بِمَكَّةَ، يَقُولُ: " سَلُونِي مَا شِئْتُمْ أُجِبْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَصْلَحَكَ اللهُ مَا تَقُولُ فِي الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ زُنْبُورًا؟، قَالَ: " نَعَمْ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] ".
حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن محمد بن ہارون فریابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے مکہ میں سنا کہ جو چاہو مجھ سے کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ سے سوال کرو، میں تمہارے سوالوں کا جواب دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، جب محرم آدمی بھڑ کو قتل کر دے تو اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمانے لگے: ہاں۔ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”جو رسول ﷺ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ۔“
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اقتدا کرنا۔“
وَحَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " أَنَّهُ أَمَرَ الْمُحْرِمَ بِقَتْلِ الزُّنْبُورِ ".
حافظ ثناء اللہ
طارق بن شہاب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ محرم آدمی کو ”بھڑ قتل کرنے کا حکم ہے۔“