السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10051
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: " الْكَلْبُ الْعَقُورُ الَّذِي أُمِرَ الْمُحْرِمُ بِقَتْلِهِ، إِنَّ كُلَّ مَا عَقَرَ النَّاسَ وَعَدَا عَلَيْهِمْ وَأَخَافَهُمْ مِثْلَ الْأَسَدِ وَالنَّمِرِ وَالْفَهْدِ وَالذِّئْبِ فَهُوَ الْكَلْبُ الْعَقُورُ ".حافظ ثناء اللہ
ابن بکیر کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کاٹنے والا کتا جس کو قتل کرنے کا محرم کو حکم دیا گیا ہے، (اس سے مراد) ہر وہ جانور ہے جو لوگوں کو کاٹے، ان پر حملہ کرے اور ان کو خوف زدہ کرے، جیسے شیر، چیتا، تیندوا اور بھیڑیا، یہی کاٹنے والا کتا ہے۔