السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ: " الْكَلْبُ الْعَقُورُ الَّذِي أُمِرَ الْمُحْرِمُ بِقَتْلِهِ، إِنَّ كُلَّ مَا عَقَرَ النَّاسَ وَعَدَا عَلَيْهِمْ وَأَخَافَهُمْ مِثْلَ الْأَسَدِ وَالنَّمِرِ وَالْفَهْدِ وَالذِّئْبِ فَهُوَ الْكَلْبُ الْعَقُورُ ".ابوعبید «كَلْبٌ عَقُورٌ» کے بارے میں فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”ہر کاٹنے والا درندہ مراد ہے، یہ کتے کے ساتھ خاص نہیں ہے۔“
(ب) ابوعبید کہتے ہیں کہ کلام میں درندے کو کتا بھی کہا جا سکتا ہے جیسا کہ مغازی میں مروی ہے کہ (نبی کریم ﷺ نے دعا فرمائی:) ”عتبہ بن ابی لہب پر کتوں میں سے کوئی کتا مسلط کر دے۔“ تو عتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ شام کی طرف گیا، اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو شیر نے ان کو پا لیا اور ان کے درمیان سے عتبہ کو قتل کر دیا تو یہاں شیر کو کتے کا نام دیا گیا ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے: ﴿وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ مُكَلِّبِينَ﴾ [سورة المائدة: 4] ”اور جو تم نے اپنے شکاری کتوں کو سدھا رکھا ہو۔“ یہ اسم بھی «كَلْبٌ» سے مشتق ہے پھر اس میں تیندوا، شکرہ اور باز کا شکار بھی داخل ہے، اس لیے ہر زخمی کرنے والے اور کاٹنے والے درندے کو «كَلْبٌ عَقُورٌ» کہتے ہیں۔
(ب) سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ہم بچھو، سانپ، چوہیا اور بھڑ کو محرم ہونے کی حالت میں بھی قتل کر دیں۔