السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10053
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: أَوَّلَ مَا رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ انْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْحَيَّةِ يَقْتُلُهَا الْمُحْرِمُ، قَالَ: " هِيَ عَدُوٌّ فَاقْتُلُوهَا حَيْثُ وَجَدْتُمُوهَا ".حافظ ثناء اللہ
بشر بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حماد بن زید رحمہ اللہ نے ابراہیم رحمہ اللہ کا قول بیان کیا کہ جب محرم آدمی چوہیا کو قتل کر دے تو اس کا فدیہ یہ ہے۔۔۔ حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوفہ میں ایک آدمی تھا جو ابراہیم رحمہ اللہ کے اقوال بغیر کسی خوف کے رد کر دیتا تھا، اس وجہ سے کہ اس نے نبی ﷺ کی احادیث بہت کم سنی تھیں اور کوفہ کے آدمی سب سے زیادہ اتباع و اقتدا حضرت شعبی رحمہ اللہ کی کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے احادیث زیادہ سن رکھی تھیں۔