❮
❯
حدیث نمبر: 10054
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَذَكَرُوا لَهُ قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ: " فِي الْفَأْرَةِ جَزَاءٌ إِذَا قَتَلَهَا الْمُحْرِمُ " فَقَالَ حَمَّادٌ: " مَا كَانَ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ أَوْحَشَ بِرَدِّ الْآثَارِ مِنْ إِبْرَاهِيمَ؛ وَذَلِكَ لِقِلَّةِ مَا سَمِعَ مِنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا كَانَ رَجُلٌ بِالْكُوفَةِ أَحْسَنَ اتِّبَاعًا وَلَا أَحْسَنَ اقْتِدَاءً مِنَ الشَّعْبِيِّ؛ وَذَلِكَ لِكَثْرَةِ مَا سَمِعَ ".
حافظ ثناء اللہ

بشر بن موسیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حماد بن زید رحمہ اللہ کے سامنے ابراہیم رحمہ اللہ کا یہ قول ذکر کیا گیا: ”جب محرم آدمی چوہیا کو قتل کر دے تو اس میں جزا (فدیہ) ہے۔“ تو حماد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”کوفہ میں ابراہیم سے بڑھ کر آثار کو رد کرنے میں بے باک کوئی آدمی نہ تھا، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے نبی ﷺ کی احادیث بہت کم سنی تھیں، اور نہ ہی کوفہ میں حضرت شعبی رحمہ اللہ سے بڑھ کر اچھی اتباع اور اچھی اقتدا کرنے والا کوئی آدمی تھا، اور یہ اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے احادیث زیادہ سن رکھی تھیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10054
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه ابن عساكر في تاريخه 51/ 272»