السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10054
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَذَكَرُوا لَهُ قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ: " فِي الْفَأْرَةِ جَزَاءٌ إِذَا قَتَلَهَا الْمُحْرِمُ " فَقَالَ حَمَّادٌ: " مَا كَانَ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ أَوْحَشَ بِرَدِّ الْآثَارِ مِنْ إِبْرَاهِيمَ؛ وَذَلِكَ لِقِلَّةِ مَا سَمِعَ مِنْ حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا كَانَ رَجُلٌ بِالْكُوفَةِ أَحْسَنَ اتِّبَاعًا وَلَا أَحْسَنَ اقْتِدَاءً مِنَ الشَّعْبِيِّ؛ وَذَلِكَ لِكَثْرَةِ مَا سَمِعَ ".حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن محمد بن ہارون فریابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے مکہ میں سنا کہ جو چاہو مجھ سے کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ سے سوال کرو، میں تمہارے سوالوں کا جواب دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، جب محرم آدمی بھڑ کو قتل کر دے تو اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمانے لگے: ہاں۔ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”جو رسول ﷺ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ۔“