کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سمندری شکار میں سے جن کا مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10027
قَالَ اللهُ تَعَالَى {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا} [المائدة: 96].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ ”تمہارے لیے سمندر کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے، تمہارے اور قافلے والوں کے فائدے کے لیے، اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔“ [سورة المائدة: 96]
حدیث نمبر: 10027
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} [المائدة: ٩٦] قَالَ: " طَعَامُهُ مَا قَذَفَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے کہ لہروں اور چھوٹے نالوں کے بارے میں، کیا وہ سمندر کا شکار ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا﴾ [سورة فاطر: 12] الآیۃ ”ایک خوب میٹھا اس کا پانی خوشگوار اور دوسرا کھاری کڑوا اور ہر ایک میں (تم مچھلی کا شکار کرکے) تازہ گوشت کھاتے ہو۔۔“
حدیث نمبر: 10028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ صَيْدَ الْأَنْهَارِ وَقِلَاتَ السَّيْلِ أَصَيْدُ بَحْرٍ هُوَ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، ثُمَّ تَلَا عَلَيَّ: {هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا} [فاطر: ١٢].
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ سے بہت بڑے تالاب کے بارے میں سوال کیا گیا جو حرم میں واقع تھا کہ کیا اس سے شکار کیا جائے؟ فرمانے لگے: ہاں اور میں پسند کرتا ہوں کہ اس سے کچھ اب بھی میرے پاس ہو۔
حدیث نمبر: 10029
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ، عَنْ بِرْكَةِ الْقَسْرِيِّ، وَهِيَ بِرْكَةٌ عَظِيمَةٌ فِي الْحَرَمِ أَيُصَادُ؟، قَالَ: " نَعَمْ وَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْهَا الْآنَ ".
حافظ ثناء اللہ
اشعث، حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ محرم ایسے پرندے کو ذبح کر سکتا ہے کہ اگر اس کو چھوڑا جائے تو اڑ نہ سکے جیسے بطخ، مرغی، اور جو اڑ سکے اس کو ذبح کرنا مکروہ ہے جیسے کبوتر وغیرہ۔
حدیث نمبر: 10030
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذٌ، ثنا الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَذْبَحَ الْمُحْرِمُ مَا لَوْ تُرِكَ لَمْ يِطِرْ، مِثْلَ الْبَطَّةِ وَالدَّجَاجَةِ وَيَكْرَهُ أَنْ يَذْبَحَ مَا لَوْ تُرِكَ طَارَ مِثْلَ الْحَمَامِ وَأَشْبَاهِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”چار چیزیں ساری کی ساری بری ہیں۔ حل و حرم میں ان کو قتل کیا جائے گا: (1) چیل (2) کوا (3) چوہیا (4) باولا کتا۔“
(ب) ہارون بن سعید وغیرہ ابن وہب سے نقل فرماتے ہیں اور انہوں نے زیادہ روایت کیا ہے کہ میں نے قاسم سے کہا: آپ کا سانپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہنے لگے: چھوٹے کو بھی قتل کیا جائے گا۔
(ب) ہارون بن سعید وغیرہ ابن وہب سے نقل فرماتے ہیں اور انہوں نے زیادہ روایت کیا ہے کہ میں نے قاسم سے کہا: آپ کا سانپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہنے لگے: چھوٹے کو بھی قتل کیا جائے گا۔