کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: سمندری شکار میں سے جن کا مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
❮
❯
قَالَ اللهُ تَعَالَى {أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا} [المائدة: 96].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ ”تمہارے لیے سمندر کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے، تمہارے اور قافلے والوں کے فائدے کے لیے، اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔“ [سورة المائدة: 96]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10027
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَبِيبٍ، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ} [المائدة: ٩٦] قَالَ: " طَعَامُهُ مَا قَذَفَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابومجلز، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ﴿صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ [سورة المائدة: 96] کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ اس کے کھانے سے مراد وہ ہے جو سمندر باہر پھینک دے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10027
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8422»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ، ثنا رَوْحٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: أَرَأَيْتَ صَيْدَ الْأَنْهَارِ وَقِلَاتَ السَّيْلِ أَصَيْدُ بَحْرٍ هُوَ؟ قَالَ: " نَعَمْ "، ثُمَّ تَلَا عَلَيَّ: {هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا} [فاطر: ١٢].
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا: نہروں اور سیلابی پانی کے گڑھوں کے شکار کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے، کیا وہ سمندر کا شکار ہے؟ فرمایا: ہاں، پھر مجھے یہ آیت سنائی: ﴿هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا﴾ [سورة فاطر: 12] ”ایک خوب میٹھا، اس کا پانی خوشگوار ہے اور دوسرا کھاری کڑوا، اور ہر ایک میں سے تم (مچھلی کا شکار کرکے) تازہ گوشت کھاتے ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10028
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سُئِلَ عَطَاءٌ، عَنْ بِرْكَةِ الْقَسْرِيِّ، وَهِيَ بِرْكَةٌ عَظِيمَةٌ فِي الْحَرَمِ أَيُصَادُ؟، قَالَ: " نَعَمْ وَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدَنَا مِنْهَا الْآنَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عطاء رحمہ اللہ سے برکہ قسری کے بارے میں سوال کیا گیا، جو حرم میں واقع ایک بہت بڑا تالاب ہے، کہ کیا اس میں شکار کیا جائے؟ فرمانے لگے: ہاں، اور میری خواہش ہے کہ اس کا کچھ (شکار) اب بھی ہمارے پاس ہوتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10029
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذٌ، ثنا الْأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ " أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَذْبَحَ الْمُحْرِمُ مَا لَوْ تُرِكَ لَمْ يِطِرْ، مِثْلَ الْبَطَّةِ وَالدَّجَاجَةِ وَيَكْرَهُ أَنْ يَذْبَحَ مَا لَوْ تُرِكَ طَارَ مِثْلَ الْحَمَامِ وَأَشْبَاهِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
اشعث، حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم ایسے پرندے کو ذبح کرے کہ اگر اس کو چھوڑا جائے تو اڑ نہ سکے جیسے بطخ اور مرغی، اور جو (چھوڑنے پر) اڑ جائے اس کو ذبح کرنا مکروہ سمجھتے تھے جیسے کبوتر وغیرہ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10030
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1198»