السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10042
ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ وَبَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الذِّئْبِ وَالْفَأْرَةِ وَالْحِدَأَةِ " فَقِيلَ لَهُ: وَالْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ، فَقَالَ: " قَدْ كَانَ يُقَالُ ذَلِكَ " قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: يَعْنِي الْمُحْرِمَ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، ⦗٣٤٥⦘ وَقَدْ رُوِّينَا مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ مُرْسَلًا جَيِّدًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بھیڑیے، چوہیا اور چیل کو قتل کرنے کا حکم دیا“، ان سے کہا گیا: اور سانپ اور بچھو؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ بھی کہا جاتا تھا۔ یزید بن ہارون کہتے ہیں: یعنی محرم (انہیں قتل کر سکتا ہے)۔
حجاج بن ارطاۃ قابل حجت نہیں ہے، اور ہم نے یہ (روایت) ابن مسیب رحمہ اللہ کی حدیث سے عمدہ مرسل سند کے ساتھ بھی روایت کی ہے۔