السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10044
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فِي الْحَيَّةِ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ میں تھے کہ اچانک ہمارے سامنے سانپ آگیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کو قتل کر دو۔“ ہم نے جلدی کی اور سانپ ہم سے سبقت لے گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہارے شر سے محفوظ رکھا گیا جیسے تم اس کے شر سے محفوظ رہے۔“