السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10046
وَرَوَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مُخْتَصَرًا " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ مُحْرِمًا بِقَتْلِ حَيَّةٍ بِمِنًى " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھپکلی بھی برا جانور ہے، لیکن میں نے اس کے قتل کے بارے میں نہیں سنا۔“
(ب) یونس، ابن شہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے نے سنا کہ آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔