السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10055
حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ يَعْنِي الدَّيْنَوَرِيَّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِدْرِيسَ بِمَكَّةَ، يَقُولُ: " سَلُونِي مَا شِئْتُمْ أُجِبْكُمْ مِنْ كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَصْلَحَكَ اللهُ مَا تَقُولُ فِي الْمُحْرِمِ يَقْتُلُ زُنْبُورًا؟، قَالَ: " نَعَمْ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، قَالَ اللهُ تَعَالَى {مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] ".حافظ ثناء اللہ
عبید اللہ بن محمد بن ہارون فریابی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام محمد بن ادریس شافعی رحمہ اللہ سے مکہ میں سنا کہ جو چاہو مجھ سے کتاب اللہ اور سنتِ رسول ﷺ سے سوال کرو، میں تمہارے سوالوں کا جواب دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: اللہ آپ کی اصلاح فرمائے، جب محرم آدمی بھڑ کو قتل کر دے تو اس کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمانے لگے: ہاں۔ «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ» ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”جو رسول ﷺ تمہیں دیں وہ لے لو اور جس سے تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ۔“