کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: محرم صرف اسی شکار کا فدیہ دے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہو۔
حدیث نمبر: 10058
اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى، وَبِأَنَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ فِي الْإِحْرَامِ بِقَوْلِهِ {وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا} [المائدة: 96] مَا كَانَ حَلَالًا لَهُ قَبْلَ الْإِحْرَامِ يَأْكُلُونَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ دلائل کی روشنی میں استدلال کرتے ہوئے، اور اس بنا پر کہ اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمان ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ ”اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔“ [سورة المائدة: 96] کے ذریعے ان پر احرام کی حالت میں صرف اس چیز کو حرام کیا ہے جو احرام سے قبل ان کے لیے حلال تھی اور وہ اسے کھاتے تھے۔
حدیث نمبر: 10058
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ " أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي طِينٍ بِالسُّقْيَا وَهُوَ مُحْرِمٌ " هَكَذَا رَوَاهُ فِي الْإِمْلَاءِ وَمُخْتَصَرِ الْحَجِّ.
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن عبداللہ رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ پانی کے گھاٹ پر اونٹ کی چیچڑیاں نکال رہے تھے اور موطا کی روایت میں انہوں نے زیادہ کیا ہے کہ وہ محرم تھے۔
حدیث نمبر: 10059
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي طِينٍ بِالسُّقْيَا " هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ مَالِكٍ فِي الْمُوَطَّأِ، زَادُوا فِيهِ " وَهُوَ مُحْرِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ گھاٹ کے پانی کی کیچڑ سے اونٹ کی چیچڑیاں نکال رہے تھے حالانکہ وہ محرم تھے۔
حدیث نمبر: 10060
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ " أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي الطِّينِ بِالسُّقْيَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عکرمہ سے کہا: ”کھڑے ہو جاؤ اور اس اونٹ کی چیچڑی نکالو۔“ انہوں نے کہا: ”میں محرم ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”تم اس کو قتل کرو۔“ اس نے قتل کر دیا تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اب آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ نے چیچڑی کو قتل کر دیا؟“ اسی طرح «الْحَلَمَةُ» اور «الْحَمْنَانَةُ» بھی چیچڑی کی اقسام ہیں۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اصمعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ فرد، چھوٹی چیچڑی «الْقَمْقَامَةُ» کہلاتی ہے، جب بڑی ہو جائے تو «الْحَمْنَانَةُ» اور جب زیادہ بڑی ہو جائے تو «الْحَلَمَةُ» کہلاتی ہے، فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارادہ یہ تھا کہ محرم آدمی اونٹ کی چیچڑی نکالے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اونٹ کی چیچڑی مٹی یا ہاتھ سے نکالی جا سکتی ہے۔
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اصمعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ فرد، چھوٹی چیچڑی «الْقَمْقَامَةُ» کہلاتی ہے، جب بڑی ہو جائے تو «الْحَمْنَانَةُ» اور جب زیادہ بڑی ہو جائے تو «الْحَلَمَةُ» کہلاتی ہے، فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارادہ یہ تھا کہ محرم آدمی اونٹ کی چیچڑی نکالے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اونٹ کی چیچڑی مٹی یا ہاتھ سے نکالی جا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 10061
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لِعِكْرِمَةَ: " قُمْ فَقَرِّدْ هَذَا الْبَعِيرَ "، فَقَالَ: إِنِّي مُحْرِمٌ، فَقَالَ: " قُمْ فَانْحَرْهُ " فَنَحَرَهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ " كَمْ تَرَاكَ الْآنَ قَتَلْتَ مِنْ قُرَادٍ، وَمِنْ حَلَمَةٍ، وَمِنْ حَمْنَانَةٍ؟ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: يُقَالُ لِلْقُرَادِ: أَصْغَرَ مَا يَكُونُ لِلْوَاحِدَةِ قَمْقَامَةٌ، فَإِذَا كَبِرَتْ فَهِيَ حَمْنَانَةٌ، فَإِذَا عَظُمَتْ فَهِيَ حَلَمَةٌ، قَالَ: وَالَّذِي يُرَادُ مِنْ هَذَا أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمْ يَرَ بِتَقْرِيدِ ⦗٣٤٩⦘ الْمُحْرِمِ الْبَعِيرَ بَأْسًا وَالتَّقْرِيدُ أَنْ يُنْزَعُ مِنْهُ الْقُرْدَانُ بِالطِّينِ أَوْ بِالْيَدِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ محرم آدمی اس شکار کا فدیہ دے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہو۔
حدیث نمبر: 10062
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: " لَا يَفْدِي الْمُحْرِمُ مِنَ الصَّيْدِ إِلَّا مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس ایک لمبے بالوں والا آدمی تشریف فرما تھا، میں نے اس سے بڑے بال کسی کے نہ دیکھے تھے۔ اس نے کہا: میں نے احرام باندھا ہے اور یہ بال میرے اوپر ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: کانوں کے نیچے سے کاٹ دو۔ اس نے کہا: میں نے عورت کا بوسہ لیا ہے حالانکہ وہ عورت میری نہ تھی۔ فرمایا: یہ تیرے منہ کا زنا ہے۔ اس نے کہا: میں نے جوئیں دیکھیں ان کو اتار پھینکا۔ فرمانے لگے: گم شدہ اشیاء کو تلاش نہ کیا جائے گا۔