کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: محرم صرف اسی شکار کا فدیہ دے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہو۔
❮
❯
اسْتِدْلَالًا بِمَا مَضَى، وَبِأَنَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ فِي الْإِحْرَامِ بِقَوْلِهِ {وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا} [المائدة: 96] مَا كَانَ حَلَالًا لَهُ قَبْلَ الْإِحْرَامِ يَأْكُلُونَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ دلائل کی روشنی میں استدلال کرتے ہوئے، اور اس بنا پر کہ اللہ عزوجل نے اپنے اس فرمان ﴿وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا﴾ ”اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔“ [سورة المائدة: 96] کے ذریعے ان پر احرام کی حالت میں صرف اس چیز کو حرام کیا ہے جو احرام سے قبل ان کے لیے حلال تھی اور وہ اسے کھاتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10058
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ " أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي طِينٍ بِالسُّقْيَا وَهُوَ مُحْرِمٌ " هَكَذَا رَوَاهُ فِي الْإِمْلَاءِ وَمُخْتَصَرِ الْحَجِّ.
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ سقیا کے مقام پر کیچڑ میں اپنے اونٹ کی چیچڑیاں نکال رہے تھے، حالانکہ آپ محرم تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10058
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك 793»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ " أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي طِينٍ بِالسُّقْيَا " هَكَذَا رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ وَغَيْرُهُ، عَنْ مَالِكٍ فِي الْمُوَطَّأِ، زَادُوا فِيهِ " وَهُوَ مُحْرِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن عبداللہ رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ سقیا کے مقام پر کیچڑ میں اپنے اونٹ کی چیچڑیاں نکال رہے تھے، اور موطا کی روایت میں انہوں نے زیادہ کیا ہے کہ ”وہ محرم تھے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10059
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهُدَيْرِ " أَنَّهُ رَأَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُقَرِّدُ بَعِيرًا لَهُ فِي الطِّينِ بِالسُّقْيَا وَهُوَ مُحْرِمٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ سقیا کے مقام پر کیچڑ میں اپنے اونٹ کی چیچڑیاں نکال رہے تھے حالانکہ وہ محرم تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10060
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 8406»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ لِعِكْرِمَةَ: " قُمْ فَقَرِّدْ هَذَا الْبَعِيرَ "، فَقَالَ: إِنِّي مُحْرِمٌ، فَقَالَ: " قُمْ فَانْحَرْهُ " فَنَحَرَهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ " كَمْ تَرَاكَ الْآنَ قَتَلْتَ مِنْ قُرَادٍ، وَمِنْ حَلَمَةٍ، وَمِنْ حَمْنَانَةٍ؟ " قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: يُقَالُ لِلْقُرَادِ: أَصْغَرَ مَا يَكُونُ لِلْوَاحِدَةِ قَمْقَامَةٌ، فَإِذَا كَبِرَتْ فَهِيَ حَمْنَانَةٌ، فَإِذَا عَظُمَتْ فَهِيَ حَلَمَةٌ، قَالَ: وَالَّذِي يُرَادُ مِنْ هَذَا أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمْ يَرَ بِتَقْرِيدِ ⦗٣٤٩⦘ الْمُحْرِمِ الْبَعِيرَ بَأْسًا وَالتَّقْرِيدُ أَنْ يُنْزَعُ مِنْهُ الْقُرْدَانُ بِالطِّينِ أَوْ بِالْيَدِ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عکرمہ سے کہا: ”کھڑے ہو جاؤ اور اس اونٹ کی چیچڑیاں نکالو۔“ انہوں نے کہا: ”میں محرم ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”کھڑے ہو جاؤ اور اسے نحر (ذبح) کر دو۔“ تو انہوں نے اسے نحر کر دیا، تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے، تم نے اب کتنی چیچڑیاں، «حَلَمَة» اور «حَمْنَانَة» مار ڈالیں؟“
ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اصمعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ چیچڑی جب سب سے چھوٹی ہو تو «قَمْقَامَة» کہلاتی ہے، جب بڑی ہو جائے تو «حَمْنَانَة» اور جب زیادہ بڑی ہو جائے تو «حَلَمَة» کہلاتی ہے، فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما محرم کے اونٹ کی چیچڑیاں نکالنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، اور چیچڑیاں نکالنا یہ ہے کہ مٹی یا ہاتھ سے انہیں نکالا جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10061
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في الام 2/320»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: " لَا يَفْدِي الْمُحْرِمُ مِنَ الصَّيْدِ إِلَّا مَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ حضرت عطاء رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ محرم آدمی صرف اسی شکار کا فدیہ دے گا جس کا گوشت کھایا جاتا ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الحج / حدیث: 10062
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق 13691»