السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10034
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " خَمْسٌ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَيَّةُ وَالْعَقْرَبُ " ثُمَّ ذَكَرَ الْبَوَاقِيَ، وَكَأَنَّ رِوَايَةَ أَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ أَصَحُّ؛ لِمُوَافَقَتِهَا سَائِرَ الرِّوَايَاتِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنُ الْمُسَيِّبِ إِنَّمَا رَوَى الْحَدِيثَ فِي الْحَيَّةِ وَالذِّئْبِ مُرْسَلًا وَذَلِكَ يَرِدُ إِنْ شَاءَ اللهُ.حافظ ثناء اللہ
شعبہ رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ”پانچ چیزوں کو حل و حرم میں قتل کیا جائے گا: سانپ، بچھو،“ پھر باقی کا ذکر کیا۔
گویا ابوداؤد طیالسی کی روایت زیادہ صحیح ہے، کیونکہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی دیگر روایات کے موافق ہے، اور ابن مسیب رحمہ اللہ نے سانپ اور بھیڑیے والی حدیث مرسلاً ہی روایت کی ہے، اور وہ ان شاء اللہ آگے آئے گی۔