السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10050
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ، يَقُولُ: وَأِيُّ كَلْبٍ أَعْقَرُ مِنَ الْحَيَّةِ؟، قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: " كُلُّ شَيْءٍ يَعْقِرُكَ فَهُوَ الْعَقُورُ ".حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے زید بن اسلم رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ کون سا کتا سانپ سے زیادہ کاٹنے والا ہے؟ حمیدی رحمہ اللہ نے فرمایا: ہر وہ چیز جو تجھے کاٹے وہ «عَقُورٌ» ہے۔