السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10047
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْوَزَغُ فُوَيْسِقٌ " وَلَمْ أَسْمَعْهُ أَمَرَ بِقَتْلِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ وَقَدْ سَمِعَهُ غَيْرُهَا يَأْمُرُ بِقَتْلِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چھپکلی چھوٹا موذی جانور ہے۔“ لیکن میں نے آپ ﷺ کو اس کے قتل کا حکم دیتے نہیں سنا۔
(ب) یونس، ابن شہاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے علاوہ کسی دوسرے نے سنا کہ آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔