السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما للمحرم قتله من دواب البر في الحل والحرم باب: خشکی کے جانوروں میں سے جنہیں حل اور حرم میں مارنا محرم کے لیے جائز ہے ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 10031
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدُ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ ثنا أَبُو طَاهِرٍ سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعُرْبَانِ الزَّاهِدُ، ثنا حَرْمَلَةُ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ مِقْسَمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَرْبَعٌ كُلُّهُنَّ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ: الْحَدَأَةُ وَالْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَزَادَ قَالَ: فَقُلْتُ لِلْقَاسِمِ: أَفَرَأَيْتَ الْحَيَّةَ، قَالَ: تُقْتَلُ بِصِغَرِهَا.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ”چار چیزیں ساری کی ساری بری ہیں، حل و حرم میں ان کو قتل کیا جائے گا: (1) چیل (2) کوا (3) چوہیا (4) باولا کتا۔“
(ب) ہارون بن سعید وغیرہ ابن وہب سے نقل فرماتے ہیں اور انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے کہ میں نے قاسم سے کہا: آپ کا سانپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کہنے لگے: چھوٹے کو بھی قتل کیا جائے گا۔