کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَأَمَّا فِي الصُّبْحِ فَلَمْ يَزَلْ يَقْنُتُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ماہ تک قنوت میں ان قبائل پر بددعا کرتے رہے، پھر چھوڑ دی اور صبح کی نماز میں ہمیشہ قنوت پڑھتے رہے حتیٰ کہ دنیا سے چلے گئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَنَسٍ فَقِيلَ لَهُ: " إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، فَقَالَ: مَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ سَنَدُهُ ثِقَةٌ رِوَاتُهُ وَالرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ تَابِعِيٌّ مَعْرُوفٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُمَا وَقَالَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ: سَأَلْتُ أَبِي وَأَبَا زُرْعَةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَا: صَدُوقٌ ثِقَةٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ إِلَّا إِنَّا لَا نَحْتَجُّ بِإِسْمَاعِيلَ الْمَكِّيِّ وَلَا بِعَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن انس بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، کسی نے ان سے پوچھا کہ: رسول اللہ ﷺ نے صرف ایک ماہ قنوت پڑھی؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے جانے تک مسلسل فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے رہے۔
ابو عبداللہ (حاکم) فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے ربیع بن انس کو صدوق اور ثقہ کہا ہے۔ اسماعیل بن مسلم مکی اور عمرو بن عبید نے بھی اسے حسن کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، لیکن ہم اسماعیل مکی اور عمرو بن عبید سے دلیل نہیں لیتے۔
ابو عبداللہ (حاکم) فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے ربیع بن انس کو صدوق اور ثقہ کہا ہے۔ اسماعیل بن مسلم مکی اور عمرو بن عبید نے بھی اسے حسن کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، لیکن ہم اسماعیل مکی اور عمرو بن عبید سے دلیل نہیں لیتے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَأَحْسِبُهُ قَالَ: رَابِعٌ حَتَّى فَارَقَهُمْ " وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ وَقَالَ: فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَلِحَدِيثِهِمَا هَذَا شَوَاهِدُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ خُلَفَائِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے کہ انہوں نے چوتھے (علی رضی اللہ عنہ) کا نام بھی لیا، ان سب نے قنوت پڑھی حتیٰ کہ میں ان سے جدا ہو گیا۔
(ب) عبدالوارث بن سعید کی روایت میں صبح کی نماز کا ذکر ہے۔ ان احادیث کے لیے نبی ﷺ اور آپ کے خلفاء سے شواہد موجود ہیں۔
(ب) عبدالوارث بن سعید کی روایت میں صبح کی نماز کا ذکر ہے۔ ان احادیث کے لیے نبی ﷺ اور آپ کے خلفاء سے شواہد موجود ہیں۔
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ وَخَلْفَ عُمَرَ فَقَنَتَ وَخَلْفَ عُثْمَانَ فَقَنَتَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے قنوت پڑھی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی قنوت پڑھی، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی قنوت پڑھی تھی۔
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عُثْمَانَ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ قَالَ: " بَعْدَ الرُّكُوعِ " قُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ: عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ " هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَا يُحَدِّثُ إِلَّا عَنِ الثِّقَاتِ عِنْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عوام بن حمزہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوعثمان رحمہ اللہ سے صبح کی نماز میں قنوت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ رکوع کے بعد ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا: تم نے کس سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے۔
یہ سند حسن ہے اور یحییٰ بن سعید صرف انہی سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہوں۔
یہ سند حسن ہے اور یحییٰ بن سعید صرف انہی سے روایت کرتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہوں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُخَارِقٌ، عَنْ طَارِقٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ الصُّبْحَ فَقَنَتَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طارق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت پڑھی۔
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ " يَقْنُتُ هَاهُنَا فِي الْفَجْرِ بِمَكَّةَ " ⦗٢٨٩⦘ وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ مِثْلَهُ وَهَذِهِ رِوَايَاتٌ صَحِيحَةٌ مَوْصُولَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مکہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہاں فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے ہوئے سنا۔
ایک دوسری سند سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
یہ روایات صحیح اور موصول ہیں۔
ایک دوسری سند سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
یہ روایات صحیح اور موصول ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ فَمَا كَانَ يَقْنُتُ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیچھے سفر و حضر میں نماز ادا کی، وہ صرف صبح کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔
وَرَوَاهُ آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ شُعْبَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ: " فَكَانَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَلَا يَقْنُتُ فِي سَائِرِ صَلَوَاتِهِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى اخْتِصَارٍ وَقَعَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي.
حافظ ثناء اللہ
(ا) آدم بن ایاس رحمہ اللہ، شعبہ رحمہ اللہ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں قنوت پڑھتے تھے اور باقی نمازوں میں نہیں پڑھتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ ⦗٢٩٠⦘ مُنِيبٍ، ثنا الْفُضَيْلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْأَسْوَدَ، وَعَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ قَالَا: " صَلَّيْنَا خَلْفَ عُمَرَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَقْنُتْ " مَنْصُورٌ وَإِنْ كَانَ أَحْفَظَ وَأَوْثَقَ مِنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ فَرِوَايَةُ حَمَّادٍ فِي هَذَا تُوَافِقُ الْمَذْهَبَ الْمَشْهُورَ، عَنْ عُمَرَ فِي الْقُنُوتِ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ اسود اور عمرو بن میمون دونوں روایت کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت نہیں پڑھی۔
منصور اگرچہ حماد بن ابی سلیمان سے زیادہ حافظ اور زیادہ ثقہ ہیں، لیکن اس بارے میں حماد کی روایت قنوت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشہور مذہب کے موافق ہے۔
منصور اگرچہ حماد بن ابی سلیمان سے زیادہ حافظ اور زیادہ ثقہ ہیں، لیکن اس بارے میں حماد کی روایت قنوت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مشہور مذہب کے موافق ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سِتَّ سِنِينَ فَكَانَ يَقْنُتُ " وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ عُمَرَ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو رَافِعٍ، عَنْ عُمَرَ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى وَالْقَوْلُ فِي مِثْلِ هَذَا قَوْلُ مَنْ شَاهَدَ وَحَفِظَ لَا قَوْلُ مَنْ لَمْ يُشَاهِدْ، وَلَمْ يَحْفَظْ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے چھ سال تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ قنوت پڑھا کرتے تھے۔
(ب) سلیمان تیمی رحمہ اللہ نے ابو عثمان رحمہ اللہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔
(ج) اسی طرح ابو رافع رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس کو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
(د) اس قسم کی بات میں اس کا قول معتبر ہوتا ہے جس نے مشاہدہ بھی کیا ہو اور یاد بھی رکھا ہو، نہ کہ اس کا قول جس نے نہ مشاہدہ کیا ہو اور نہ ہی یاد رکھا ہو۔ «وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔
(ب) سلیمان تیمی رحمہ اللہ نے ابو عثمان رحمہ اللہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔
(ج) اسی طرح ابو رافع رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس کو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
(د) اس قسم کی بات میں اس کا قول معتبر ہوتا ہے جس نے مشاہدہ بھی کیا ہو اور یاد بھی رکھا ہو، نہ کہ اس کا قول جس نے نہ مشاہدہ کیا ہو اور نہ ہی یاد رکھا ہو۔ «وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ التَّمِيمِيُّ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ: " قَنَتَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفَجْرِ " وَهَذَا عَنْ عَلِيٍّ صَحِيحٌ مَشْهُورٌ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عبداللہ بن معقل بیان کرتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فجر کی نماز میں قنوت کی۔
(ب) یہ قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صحیح اور مشہور ہے۔
(ب) یہ قول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے صحیح اور مشہور ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ مَطَرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُوَيْدٍ الْكَاهِلِيِّ قَالَ: كَأَنِّي أَسْمَعُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْفَجْرِ حِينَ قَنَتَ وَهُوَ يَقُولُ: " اللهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن سوید کاہلی سے روایت ہے کہ گویا میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فجر کی نماز میں قنوت کرتے دیکھ رہا ہوں: «اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ» ”اے اللہ! ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تجھ سے بخشش طلب کرتے ہیں۔“
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ مَعَ عَلِيٍّ فَقَنَتَ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت نہیں پڑھی اور میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت پڑھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ: " صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَنَتَ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] ".
حافظ ثناء اللہ
ابورجاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس مسجد میں فجر کی نماز پڑھائی تو انہوں نے قنوت پڑھی اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”اور اللہ کے لیے فرمان بردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٢٩٢⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ " قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ كَأَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ كَانَ صَاحِبَ مِرَاءٍ قَالَ: فَرَجَعْتُ فَتَرَكَتُ الْقُنُوتَ، فَقَالَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ: تَاللهِ مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ قَطُّ شَيْئًا لَمْ يَزَلْ فِي مَسْجِدِنَا، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى الْقُنُوتِ فَبَلَغَ ذَلِكَ إِبْرَاهِيمَ فَلَقِيَنِي، فَقَالَ: هَذَا مَغْلُوبٌ عَلَى صَلَاتِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مِنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ غَيْرُ مَرَضِيٍّ لَيْسَ كُلُّ عِلْمٍ لَا يُوجَدُ عِنْدَ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَوُجِدَ عِنْدَ غَيْرَهِ لَا يُؤْخَذُ بِهِ بَلْ يُؤْخَذُ بِهِ إِذَا كَانَ أَعْلَى مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، وَكَانَ الرَّاوِي ثِقَةً وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ثِقَةٌ، وَقَدْ أَخْبَرَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ فِي مَسْجِدِهِمْ وَرُوِّينَا عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ کو سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کرتے سنا کہ نبی ﷺ صبح کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔
عمرو کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی طرح نہیں ہے۔ وہ تو جھگڑالو آدمی تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں واپس لوٹ آیا اور قنوت چھوڑ دی۔ تو مسجد والوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم مسجد میں وہ چیز نہیں دیکھ رہے جو ہمیشہ سے ہماری مسجد میں ہو رہی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دوبارہ قنوت شروع کر دی تو ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک یہ بات پہنچی تو وہ مجھے ملے اور فرمایا: یہ اس کی نماز پر مغلوب ہے۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علم ایسا نہیں ہے کہ علم کی ہر بات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے پاس ہی پائی جائے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس نہ پائی جائے اور اس کو نہ لیا جائے گا بلکہ دوسری کو لیا جائے گا۔ بلکہ اگر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے زیادہ بلند مرتبہ والے سے روایت ہو اور راوی ثقہ ہو تو اسے لیا جائے گا اور عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ثقہ راوی ہیں۔
عمرو بن مرہ نے اہل مسجد کے بارے میں خبر دی کہ یہ کام (قنوت کا اہتمام) ہمیشہ سے ان کی مسجد میں جاری تھا۔
اسی طرح ہمیں ایک دوسری سند سے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی۔
عمرو کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی طرح نہیں ہے۔ وہ تو جھگڑالو آدمی تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں واپس لوٹ آیا اور قنوت چھوڑ دی۔ تو مسجد والوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم مسجد میں وہ چیز نہیں دیکھ رہے جو ہمیشہ سے ہماری مسجد میں ہو رہی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دوبارہ قنوت شروع کر دی تو ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک یہ بات پہنچی تو وہ مجھے ملے اور فرمایا: یہ اس کی نماز پر مغلوب ہے۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علم ایسا نہیں ہے کہ علم کی ہر بات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے پاس ہی پائی جائے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس نہ پائی جائے اور اس کو نہ لیا جائے گا بلکہ دوسری کو لیا جائے گا۔ بلکہ اگر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے زیادہ بلند مرتبہ والے سے روایت ہو اور راوی ثقہ ہو تو اسے لیا جائے گا اور عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ثقہ راوی ہیں۔
عمرو بن مرہ نے اہل مسجد کے بارے میں خبر دی کہ یہ کام (قنوت کا اہتمام) ہمیشہ سے ان کی مسجد میں جاری تھا۔
اسی طرح ہمیں ایک دوسری سند سے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنِ الْبَرَاءِ أَنَّهُ " قَنَتَ فِي الْفَجْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبید بن براء، سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی۔