السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3108
وَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الشَّافِعِيُّ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَمْزَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا عُثْمَانَ عَنِ الْقُنُوتِ فِي الصُّبْحِ قَالَ: " بَعْدَ الرُّكُوعِ " قُلْتُ: عَمَّنْ؟ قَالَ: عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ " هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ لَا يُحَدِّثُ إِلَّا عَنِ الثِّقَاتِ عِنْدَهُ.حافظ ثناء اللہ
عوام بن حمزہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوعثمان رحمہ اللہ سے صبح کی نماز میں قنوت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ رکوع کے بعد ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا: تم نے کس سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سے۔