السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3112
وَرَوَاهُ آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، عَنْ شُعْبَةَ، بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ: " فَكَانَ يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِنْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَلَا يَقْنُتُ فِي سَائِرِ صَلَوَاتِهِ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ وَفِي هَذَا دَلِيلٌ عَلَى اخْتِصَارٍ وَقَعَ فِي الْحَدِيثِ الَّذِي.حافظ ثناء اللہ
(ا) آدم بن ایاس رحمہ اللہ، شعبہ رحمہ اللہ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں قنوت پڑھتے تھے اور باقی نمازوں میں نہیں پڑھتے تھے۔