السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3105
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَنَسٍ فَقِيلَ لَهُ: " إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا، فَقَالَ: مَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ سَنَدُهُ ثِقَةٌ رِوَاتُهُ وَالرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ تَابِعِيٌّ مَعْرُوفٌ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُهُمَا وَقَالَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ: سَأَلْتُ أَبِي وَأَبَا زُرْعَةَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَا: صَدُوقٌ ثِقَةٌ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ إِلَّا إِنَّا لَا نَحْتَجُّ بِإِسْمَاعِيلَ الْمَكِّيِّ وَلَا بِعَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ.حافظ ثناء اللہ
ربیع بن انس بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا، کسی نے ان سے پوچھا کہ: رسول اللہ ﷺ نے صرف ایک ماہ قنوت پڑھی؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے جانے تک مسلسل فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے رہے۔
ابو عبداللہ (حاکم) فرماتے ہیں: یہ سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ نے ربیع بن انس کو صدوق اور ثقہ کہا ہے۔ اسماعیل بن مسلم مکی اور عمرو بن عبید نے بھی اسے حسن کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، لیکن ہم اسماعیل مکی اور عمرو بن عبید سے دلیل نہیں لیتے۔