السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3109
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْخَطِيبُ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُخَارِقٌ، عَنْ طَارِقٍ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ الصُّبْحَ فَقَنَتَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا طارق رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت پڑھی۔