حدیث نمبر: 3121
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللهِ لَأَنَا أَقْرَبُكُمْ صَلَاةً بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ " يَقْنُتُ فِي الرَّكْعَةِ الْأَخِيرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَمَا يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَيَدْعُو لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَلْعَنُ الْكَافِرِينَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! میں تمہیں رسول اللہ ﷺ جیسی نماز پڑھاؤں گا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ صبح کی نماز کی دوسری رکعت میں «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهٗ» ”اللہ نے اس کی سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہنے کے بعد قنوت پڑھتے تھے، جس میں مومنوں کے لیے دعا کرتے اور کفار کے لیے بددعا کرتے۔
حدیث نمبر: 3122
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، أَنَّ مُسْلِمَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَهُمْ ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے رکوع کے بعد ایک ماہ تک قنوت پڑھی، آپ ﷺ عرب کے بعض قبیلوں پر بددعا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 3123
أَخْبَرَنَا أَبُو الْخَيْرِ جَامِعُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْوَكِيلُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ ⦗٢٩٣⦘ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقِيلَ لَهُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: " بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا " قَالَ: فَلَا أَدْرِي: الْيَسِيرُ الْقِيَامُ أَوِ الْقُنُوتُ؟ لَفْظُ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ، وَفِي حَدِيثِ مُسَدَّدٍ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: " بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت (نازلہ) پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر دریافت کیا گیا کہ رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ انہوں نے فرمایا: رکوع کے بعد مختصر سے وقت میں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ مختصر قنوت کا ذکر کیا یا قیام کا۔
یہ سلیمان کی حدیث کے الفاظ ہیں اور مسدد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا نبی ﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت (نازلہ) رکوع سے پہلے پڑھی ہے یا بعد میں؟ انہوں نے فرمایا: رکوع کے بعد مختصر مدت کے لیے۔
یہ سلیمان کی حدیث کے الفاظ ہیں اور مسدد کی حدیث میں ہے کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا: کیا نبی ﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت (نازلہ) رکوع سے پہلے پڑھی ہے یا بعد میں؟ انہوں نے فرمایا: رکوع کے بعد مختصر مدت کے لیے۔
حدیث نمبر: 3124
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ قَالَ: نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ، ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ: هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ؟ قَالَ: " نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، رکوع کے بعد۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، رکوع کے بعد مختصر مدت کے لیے۔
حدیث نمبر: 3125
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْقُنُوتِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْقُنُوتُ، قُلْتُ: قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ؟ قَالَ: قَبْلَهُ، قُلْتُ: إِنَّ فُلَانًا أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ قَالَ: كَذَبَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا، إِنَّهُ كَانَ بَعَثَ قَوْمًا يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ، زُهَاءُ سَبْعِينَ رَجُلًا إِلَى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلَهُمْ قَوْمٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ، وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَقَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ أَنَّ الْقُنُوتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ إِنَّمَا كَانَ شَهْرًا حِينَ كَانَ يَدْعُو عَلَى الَّذِينَ قَتَلُوا الْقُرَّاءَ، وَأَوْهَمَ أَنَّ الْقُنُوتَ قَبْلَ ذَلِكَ وَبَعْدَهُ إِنَّمَا هُوَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ فِي قِصَّةِ الْقُرَّاءِ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا عَلَيْهِمْ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَذَلِكَ بَدْءُ الْقُنُوتِ، وَمَا كُنَّا نَقْنُتُ، ثُمَّ رَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ أَنَسًا عَنِ الْقُنُوتِ أَبْعَدَ الرُّكُوعِ أَوْ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: لَا، بَلْ عِنْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ وَقَدْ رُوِّينَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي غَيْرِ قِصَّةِ الْقُرَّاءِ أَنَّ قُنُوتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ كَانَ بَعْدَ الرُّكُوعِ وَكَذَلِكَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
عاصم احول بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ قنوت پڑھتے تھے۔ میں نے کہا: رکوع سے پہلے یا بعد میں؟ انہوں نے فرمایا: ”رکوع سے پہلے۔“ میں نے کہا: فلاں صاحب آپ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: رکوع کے بعد ہے۔ انہوں نے فرمایا: ”وہ صاحب غلط کہتے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے ایک مہینے تک قنوت پڑھی تھی وہ بھی رکوع کے بعد۔ ہوا یہ تھا کہ آپ ﷺ نے صحابہ میں سے ستر قاریوں کو مشرکین کی ایک قوم (بنی عامر) کی طرف (ان کو تعلیم دینے کے لیے) بھیجا تھا لیکن انہیں ان لوگوں کے علاوہ مشرکوں کی ایک قوم نے شہید کر دیا۔ ان کے اور آپ ﷺ کے درمیان عہد تھا لیکن انہوں نے عہد شکنی کی تو آپ ﷺ ایک ماہ تک ان کے خلاف بددعا کرتے رہے۔
(ب) عاصم احول سے مروی ہے کہ قنوت رکوع کے بعد ہے۔ آپ ﷺ نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی تھی۔ یہ ان قراء کے قاتلوں پر بددعا تھی۔ انہیں یہ وہم ہوا ہے کہ قنوت رکوع سے پہلے بھی ہے اور بعد میں بھی۔ حالانکہ یہ رکوع سے پہلے ہی ہے۔
(ج) عبدالعزیز بن صہیب نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں ان پر بددعا کی۔
اور یہ قنوت کی ابتدا تھی۔ ہم اس سے پہلے قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
(د) پھر عبدالعزیز نے روایت کیا کہ ایک شخص نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا قرأت سے فارغ ہونے کے بعد؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ قرأت سے فراغت کے بعد ہے۔“
(ہ) اور ہمیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے علاوہ روایت پہنچی ہے کہ نبی ﷺ کی قنوت رکوع کے بعد تھی۔ اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
(ب) عاصم احول سے مروی ہے کہ قنوت رکوع کے بعد ہے۔ آپ ﷺ نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی تھی۔ یہ ان قراء کے قاتلوں پر بددعا تھی۔ انہیں یہ وہم ہوا ہے کہ قنوت رکوع سے پہلے بھی ہے اور بعد میں بھی۔ حالانکہ یہ رکوع سے پہلے ہی ہے۔
(ج) عبدالعزیز بن صہیب نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے بارے میں روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک صبح کی نماز میں ان پر بددعا کی۔
اور یہ قنوت کی ابتدا تھی۔ ہم اس سے پہلے قنوت نہیں پڑھتے تھے۔
(د) پھر عبدالعزیز نے روایت کیا کہ ایک شخص نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے قنوت کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا وہ رکوع سے پہلے ہے یا قرأت سے فارغ ہونے کے بعد؟ انہوں نے فرمایا: ”وہ قرأت سے فراغت کے بعد ہے۔“
(ہ) اور ہمیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے قراء کے قصے کے علاوہ روایت پہنچی ہے کہ نبی ﷺ کی قنوت رکوع کے بعد تھی۔ اسی طرح سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے۔
حدیث نمبر: 3126
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ بِطُوسَ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: قَرَأْنَا عَلَى أَبِي الْيَمَانِ أَنَّ شُعَيْبَ بْنَ أَبِي حَمْزَةَ، أَخْبَرَهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَا: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يَرْفَعَ صُلْبَهُ فَيَقُولُ سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ يَدْعُو لِرِجَالٍ فَيُسَمِّيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ فَيَقُولُ " اللهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ، وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ، وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ، اللهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ، وَأَهْلُ الْمَشْرِقِ مِنْ مُضَرَ يَوْمَئِذٍ يُخَالِفُونَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب رکوع سے اپنی کمر اٹھاتے تو کہتے: «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» پھر لوگوں کے لیے ان کا نام لے لے کر دعا کرتے اور فرماتے: «اللّٰهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ...» ”اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے اور سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے، اے اللہ! کفارِ مضر پر اپنی پکڑ مضبوط کر اور اس عذاب کو ان پر مدت طویل تک مسلط رکھ۔“ مضر قبیلے والے ان دنوں رسول اللہ ﷺ کے مخالف تھے۔
حدیث نمبر: 3127
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنَ الْفَجْرِ قَالَ: " اللهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا " بَعْدَمَا يَقُولُ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: ١٢٨] الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فجر کی نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت بھیج۔“ یہ کلمات «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»، «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہنے کے بعد کہتے تھے تو باری تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ [سورة آل عمران: 128]۔
حدیث نمبر: 3128
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ بِإِسْنَادِهِ وَزَادَ، فَقَالَ: وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَدْعُو عَلَى صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَسُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَنَزَلَتْ {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ} [آل عمران: ١٢٨] إِلَى قَوْلِهِ {ظَالِمُونَ} [آل عمران: ١٢٨] ".
حافظ ثناء اللہ
سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ، سہیل بن عمرو رضی اللہ عنہ اور حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پر بددعا کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ﴾ سے ﴿ظَالِمُونَ﴾ تک [سورة آل عمران: 128] ”اے پیغمبر! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی توبہ قبول فرما لے یا عذاب دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔“
حدیث نمبر: 3129
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ، فَذَكَرَهُ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ عَمْرِو بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ مَوْصُولًا إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ أَبَا سُفْيَانَ بَدَلَ سُهَيْلٍ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے یہی روایت مروی ہے۔
حدیث نمبر: 3130
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ ⦗٢٩٥⦘ الْحَارِثِ بْنِ خُفَافٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ: خُفَافُ بْنُ إِيمَاءٍ: رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللهِ وَرَسُولَهُ، اللهُمَّ الْعَنْ بَنِي لَحْيَانَ، وَالْعَنْ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا " قَالَ خَالِدٌ فَجُعِلَتْ لَعْنَةُ اللهِ الْكَفَرَةَ لِأَجْلِ ذَلِكَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةَ وَعَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ خُفَافٌ: فَجُعِلَتْ، وَرُوِّينَا عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ أَفْتَى بِالْقُنُوتِ بَعْدَ الرُّكُوعِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا خفاف بن ایماء رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رکوع کیا۔ پھر رکوع سے سر مبارک اٹھانے کے بعد فرمایا: ”اے اللہ! قبیلہ بنو غفار کو بخش دے، بنو اسلم کو سلامت رکھ۔ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اے اللہ! بنو لحیان پر لعنت کر اور رعل و ذکوان پر بھی پھٹکار بھیج۔“ پھر سجدہ میں چلے گئے۔ خالد کہتے ہیں: کفار پر لعنت اسی لیے کی گئی تھی۔
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ خفاف نے کہا: «فَجُعِلَتْ» اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے قنوت رکوع کے بعد پڑھنے کا فتویٰ دیا۔
(ب) صحیح مسلم میں ہے کہ خفاف نے کہا: «فَجُعِلَتْ» اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے قنوت رکوع کے بعد پڑھنے کا فتویٰ دیا۔
حدیث نمبر: 3131
أَخْبَرَنَا أَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّمَا " قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا " فَقُلْتُ: كَيْفَ الْقُنُوتُ؟ قَالَ: " بَعْدَ الرُّكُوعِ فَهُوَ ذَا قَدْ أَخْبَرَ أَنَّ الْقُنُوتَ الْمُطْلَقَ الْمُعْتَادَ بَعْدَ الرُّكُوعِ، وَقَوْلُهُ: إِنَّمَا قَنَتَ شَهْرًا، يُرِيدُ بِهِ اللَّعْنَ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَرُوَاةُ الْقُنُوتِ بَعْدَ الرُّكُوعِ أَكْثَرُ وَأَحْفَظُ، فَهُوَ أَوْلَى وَعَلَى هَذَا دَرَجَ الْخُلَفَاءُ الرَّاشِدُونَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي أَشْهَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُمْ وَأَكْثَرِهَا.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ایک ماہ تک قنوت پڑھی۔“ میں نے پوچھا: کس وقت؟ انھوں نے بتایا کہ ”رکوع کے بعد۔“
(ب) قنوت رکوع کے بعد ہی پڑھی جائے گی۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول «إِنَّمَا قَنَتَ شَهْرًا» ”صرف ایک ماہ تک قنوت پڑھی“ سے مراد بددعا اور لعنت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(د) رکوع کے بعد قنوت پڑھنے کے راوی اکثر بھی ہیں اور حفظ میں بھی پختہ ہیں، لہٰذا زیادہ بہتر یہی ہے اور اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی عمل کیا۔ ان سے منقول مشہور روایات موجود ہیں۔
(ب) قنوت رکوع کے بعد ہی پڑھی جائے گی۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے قول «إِنَّمَا قَنَتَ شَهْرًا» ”صرف ایک ماہ تک قنوت پڑھی“ سے مراد بددعا اور لعنت ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم
(د) رکوع کے بعد قنوت پڑھنے کے راوی اکثر بھی ہیں اور حفظ میں بھی پختہ ہیں، لہٰذا زیادہ بہتر یہی ہے اور اس پر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی عمل کیا۔ ان سے منقول مشہور روایات موجود ہیں۔
حدیث نمبر: 3132
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا الْعَوَّامُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مَازِنٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " قَنَتَا فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ الرُّكُوعِ " وَرُوِّينَاهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَمْزَةَ بِزِيَادَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعثمان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے۔
یحییٰ بن سعید قطان نے عوام بن حمزہ کے واسطے سے ہمیں یہی حدیث بیان کی۔ اس میں انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا۔
یحییٰ بن سعید قطان نے عوام بن حمزہ کے واسطے سے ہمیں یہی حدیث بیان کی۔ اس میں انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا نام بھی لیا۔
حدیث نمبر: 3133
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأُمَوِيُّ، ثنا الصَّغَانِيُّ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، وَسُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، وَعَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي كُلُّ هَؤُلَاءِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عُثْمَانَ يُحَدِّثُ عَنْ عُمَرَ، " أَنَّهُ كَانَ يَقْنُتُ بَعْدَ الرُّكُوعِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو عثمان نہدی رحمہ اللہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ رکوع کے بعد قنوت پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3134
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ عُمَرَ " قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ الرُّكُوعِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھی۔
حدیث نمبر: 3135
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَنَتَ عُمَرُ، قُلْتُ: " بَعْدَ الرُّكُوعِ؟ قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قنوت پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے زید رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا رکوع کے بعد؟ تو انہوں نے بتایا: جی ہاں۔
حدیث نمبر: 3136
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يُحَدِّثُونَ أَنَّ عَلِيًّا كَانَ " يَقْنُتُ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ بَعْدَ الرُّكُوعِ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا قَبْلَ الرُّكُوعِ، وَالصَّحِيحُ عَنْ عُمَرَ بَعْدَهُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن ابی زیاد بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے اساتذہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت پڑھا کرتے تھے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رکوع سے پہلے قنوت پڑھنے والی روایات سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہیں اور صحیح مذہب رکوع کے بعد کا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رکوع سے پہلے قنوت پڑھنے والی روایات سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے منقول ہیں اور صحیح مذہب رکوع کے بعد کا ہے۔
حدیث نمبر: 3137
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَرُوبَةَ الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي مَعْشَرٍ السُّلَمِيُّ بِحَرَّانَ، حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ دَعْلَجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: " قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ" ثُمَّ تَبَاعَدَتِ الدِّيَارُ فَطَلَبَ النَّاسُ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنْ يَجْعَلَ الْقُنُوتَ فِي الصَّلَاةِ قَبْلَ الرُّكُوعِ؛ لِكَيْ يُدْرِكُوا الصَّلَاةَ، فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ لَا يُحْتَجُّ بِهِ وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی۔ پھر لوگوں کے گھر دور دور ہو گئے۔ لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس درخواست لے کر آئے کہ قنوت کو نماز میں رکوع سے پہلے پڑھیں تاکہ لوگ نماز کے ساتھ شامل ہو سکیں۔