کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مصیبت کے ٹل جانے پر فجر کے علاوہ باقی نمازوں میں قنوت ترک کرنے اور فجر کی نماز میں کسی قوم کے لیے یا کسی قوم کے خلاف ان کے ناموں یا قبیلوں کے ساتھ قنوت ترک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3101
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ الْعَتَمَةَ وَقَالَ فِي صَلَاتِهِ: شَهْرًا إِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ يَقُولُ فِي قُنُوتِهِ وَرَوَاهُ حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْأَوْزَاعِيِّ وَفِي آخِرِهِ لَمْ يَزَلْ يَدْعُو حَتَّى نَجَّاهُمُ اللهُ ثُمَّ تَرَكَ الدُّعَاءَ لَهُمْ وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى، عَنْ حَرْبٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ لَمْ تَدْعُ لِلنَّفَرِ؟ قَالَ: " أَوَ مَا عَلِمْتَ أَنَّهُمْ قَدْ قَدِمُوا ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند میں ولید بن مسلم نے اسی طرح کی روایت بیان کی مگر انہوں نے عشا کا ذکر نہیں کیا بلکہ فرمایا: آپ ﷺ کسی نماز میں ایک ماہ تک قنوت پڑھتے رہے، جب «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے اور پھر اپنی قنوت میں یہ کہتے۔۔۔
(ب) حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر کے واسطے سے اوزاعی کی روایت کے معنیٰ میں روایت نقل کی ہے اور اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسلسل ان کے لیے دعا کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ نے انہیں نجات دے دی۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے لیے دعا کرنا چھوڑ دی۔ حرب سے منقول ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ اب آپ ان لوگوں کے لیے دعا نہیں کرتے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پتا نہیں ہے کہ وہ نجات پاچکے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3101
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
حدیث نمبر: 3102
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا هِشَامٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ تک قنوت پڑھی، اس میں عرب کے بعض قبائل پر بددعا کرتے تھے، پھر اس کو چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3102
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم 677»
حدیث نمبر: 3103
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَةَ يَحْكِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، فِي حَدِيثِ أَنَسٍ " قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ " قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّمَا تَرَكَ اللَّعْنَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ قنوت پڑھی، پھر چھوڑ دی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صرف بددعا کرنی چھوڑی تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3103
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»