السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3104
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ ثُمَّ تَرَكَهُ، فَأَمَّا فِي الصُّبْحِ فَلَمْ يَزَلْ يَقْنُتُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ماہ تک قنوت میں ان قبائل پر بددعا کرتے رہے، پھر چھوڑ دی اور صبح کی نماز میں ہمیشہ قنوت پڑھتے رہے حتیٰ کہ دنیا سے چلے گئے۔