السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ ⦗٢٩٢⦘ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ " قَالَ عَمْرٌو: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: لَمْ يَكُنْ كَأَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ كَانَ صَاحِبَ مِرَاءٍ قَالَ: فَرَجَعْتُ فَتَرَكَتُ الْقُنُوتَ، فَقَالَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ: تَاللهِ مَا رَأَيْنَا كَالْيَوْمِ قَطُّ شَيْئًا لَمْ يَزَلْ فِي مَسْجِدِنَا، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى الْقُنُوتِ فَبَلَغَ ذَلِكَ إِبْرَاهِيمَ فَلَقِيَنِي، فَقَالَ: هَذَا مَغْلُوبٌ عَلَى صَلَاتِهِ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا مِنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ غَيْرُ مَرَضِيٍّ لَيْسَ كُلُّ عِلْمٍ لَا يُوجَدُ عِنْدَ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَوُجِدَ عِنْدَ غَيْرَهِ لَا يُؤْخَذُ بِهِ بَلْ يُؤْخَذُ بِهِ إِذَا كَانَ أَعْلَى مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، وَكَانَ الرَّاوِي ثِقَةً وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ثِقَةٌ، وَقَدْ أَخْبَرَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ أَنَّهُ لَمْ يَزَلْ فِي مَسْجِدِهِمْ وَرُوِّينَا عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَنَّهُ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ.(ا) عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ کو سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے حدیث نقل کرتے سنا کہ نبی ﷺ صبح کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔
عمرو کہتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا: وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کی طرح نہیں ہے۔ وہ تو امراء کے شاگردوں جیسے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں واپس لوٹ آیا اور قنوت چھوڑ دی۔ تو مسجد والوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم مسجد میں وہ چیز نہیں دیکھ رہے جو ہمیشہ سے ہماری مسجد میں ہو رہی تھی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دوبارہ قنوت شروع کر دی تو ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تک یہ بات پہنچی تو وہ مجھے ملے اور فرمایا: یہ اس کی نماز پر مغلوب ہے۔
(ب) شیخ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا ناپسندیدہ عمل ہے۔ علم ایسا نہیں ہے کہ علم کی ہر بات عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کے پاس ہی پائی جائے اور ان کے علاوہ کسی دوسرے کے پاس نہ پائی جائے اور اس کو نہ لیا جائے گا بلکہ دوسری کو لیا جائے گا۔ بلکہ اگر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں سے زیادہ بلند مرتبہ والے سے روایت ہو اور راوی ثقہ ہو تو اسے لیا جائے گا اور عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ثقہ راوی ہیں۔
عمرو بن مرہ نے اہل مسجد کے بارے میں خبر دی کہ یہ کام (قنوت کا اہتمام) ہمیشہ سے ان کی مسجد میں جاری تھا۔
اسی طرح ہمیں ایک دوسری سند سے سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے فجر کی نماز میں قنوت پڑھی۔