السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3111
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بِشْرٍ الْمَرْثَدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ قَالَ: وَأَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ هُوَ ابْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ فَمَا كَانَ يَقْنُتُ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ ".حافظ ثناء اللہ
(ا) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
(ب) یہ روایات صحیح اور موصول ہیں۔
اسود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پیچھے سفر و حضر میں نماز ادا کی، وہ صرف صبح کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔