السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3117
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَلَمْ يَقْنُتْ وَصَلَّيْتُ مَعَ عَلِيٍّ فَقَنَتَ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت نہیں پڑھی اور میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت پڑھی۔