السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3118
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ: " صَلَّى ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ فَقَنَتَ وَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] ".حافظ ثناء اللہ
ابورجاء رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس مسجد میں فجر کی نماز پڑھائی تو انہوں نے قنوت پڑھی اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”اور اللہ کے لیے فرمان بردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔“