السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3106
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيُّ الْغَضَائِرِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ، وَعَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: " قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَأَحْسِبُهُ قَالَ: رَابِعٌ حَتَّى فَارَقَهُمْ " وَرَوَاهُ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُبَيْدٍ وَقَالَ: فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ، وَلِحَدِيثِهِمَا هَذَا شَوَاهِدُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنْ خُلَفَائِهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ.حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے کہ انہوں نے چوتھے (علی رضی اللہ عنہ) کا نام بھی لیا، ان سب نے قنوت پڑھی حتیٰ کہ میں ان سے جدا ہو گیا۔
(ب) عبدالوارث بن سعید کی روایت میں صبح کی نماز کا ذکر ہے۔ ان احادیث کے لیے نبی ﷺ اور آپ کے خلفاء سے شواہد موجود ہیں۔