السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3107
فَمِنْهَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ الْعَدْلُ، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَنْبَرِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَنَتَ وَخَلْفَ عُمَرَ فَقَنَتَ وَخَلْفَ عُثْمَانَ فَقَنَتَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی، آپ نے قنوت پڑھی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی قنوت پڑھی، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بھی قنوت پڑھی تھی۔