حدیث نمبر: 3114
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سِتَّ سِنِينَ فَكَانَ يَقْنُتُ " وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ عُمَرَ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو رَافِعٍ، عَنْ عُمَرَ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى وَالْقَوْلُ فِي مِثْلِ هَذَا قَوْلُ مَنْ شَاهَدَ وَحَفِظَ لَا قَوْلُ مَنْ لَمْ يُشَاهِدْ، وَلَمْ يَحْفَظْ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) عثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے چھ سال تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ قنوت پڑھا کرتے تھے۔
(ب) سلیمان تیمی رحمہ اللہ نے ابو عثمان رحمہ اللہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔
(ج) اسی طرح ابو رافع رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس کو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
(د) اس قسم کی بات میں اس کا قول معتبر ہوتا ہے جس نے مشاہدہ بھی کیا ہو اور یاد بھی رکھا ہو، نہ کہ اس کا قول جس نے نہ مشاہدہ کیا ہو اور نہ ہی یاد رکھا ہو۔ «وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3114
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ هذا اسناد صحيح متصل»