السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سِتَّ سِنِينَ فَكَانَ يَقْنُتُ " وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ عُمَرَ قَنَتَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ، وَرَوَاهُ أَيْضًا أَبُو رَافِعٍ، عَنْ عُمَرَ عَلَى مَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى وَالْقَوْلُ فِي مِثْلِ هَذَا قَوْلُ مَنْ شَاهَدَ وَحَفِظَ لَا قَوْلُ مَنْ لَمْ يُشَاهِدْ، وَلَمْ يَحْفَظْ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.(ا) عثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے چھ سال تک سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ قنوت پڑھا کرتے تھے۔
(ب) سلیمان تیمی رحمہ اللہ نے ابو عثمان رحمہ اللہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی۔
(ج) اسی طرح ابو رافع رحمہ اللہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے جس کو ہم ان شاء اللہ ذکر کریں گے۔
(د) اس قسم کی بات میں اس کا قول معتبر ہوتا ہے جس نے مشاہدہ بھی کیا ہو اور یاد بھی رکھا ہو، نہ کہ اس کا قول جس نے نہ مشاہدہ کیا ہو اور نہ ہی یاد رکھا ہو۔ «وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے“۔