السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3110
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ " يَقْنُتُ هَاهُنَا فِي الْفَجْرِ بِمَكَّةَ " ⦗٢٨٩⦘ وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ مِثْلَهُ وَهَذِهِ رِوَايَاتٌ صَحِيحَةٌ مَوْصُولَةٌ.حافظ ثناء اللہ
عبید بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مکہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہاں فجر کی نماز میں قنوت پڑھتے ہوئے سنا۔
ایک دوسری سند سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
یہ روایات صحیح اور موصول ہیں۔