السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ " يَقْنُتُ هَاهُنَا فِي الْفَجْرِ بِمَكَّةَ " ⦗٢٨٩⦘ وَبِإِسْنَادِهِ ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عُمَرَ مِثْلَهُ وَهَذِهِ رِوَايَاتٌ صَحِيحَةٌ مَوْصُولَةٌ.عبید بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے مکہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس طرح قنوت پڑھتے ہوئے سنا: «اَللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّيْ وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعٰى وَنَحْفِدُ، نَرْجُوْ رَحْمَتَكَ وَنَخْشٰى عَذَابَكَ، إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ، اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ، وَنُثْنِيْ عَلَيْكَ الْخَيْرَ وَلَا نَكْفُرُكَ، وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَخْضَعُ لَكَ، وَنَخْلَعُ مَنْ يَّفْجُرُكَ» ”اے اللہ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیرے ہی لیے نماز پڑھتے اور سجدہ کرتے ہیں، اور تیری ہی طرف دوڑتے اور خدمت کے لیے حاضر ہوتے ہیں، ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں، بے شک تیرا عذاب کافروں کو ملنے والا ہے، اے اللہ! ہم تجھ سے مدد چاہتے ہیں، اور تجھ سے بخشش مانگتے ہیں، اور تیری اچھی تعریف کرتے ہیں، اور تیرا کفر (ناشکری) نہیں کرتے، اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں، اور تیرے لیے عاجزی کرتے ہیں، اور جو تیری نافرمانی کرے اس سے قطع تعلق کرتے ہیں۔“