السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أنه لم يترك أصل القنوت في صلاة الصبح إنما ترك الدعاء لقوم أو على قوم آخرين بأسمائهم وقبائلهم باب: اس بات کی دلیل کہ آپ ﷺ نے فجر کی نماز میں اصل قنوت کو ترک نہیں کیا، بلکہ صرف کسی قوم کے لیے یا کسی اور قوم کے خلاف ان کے ناموں اور قبیلوں کے ساتھ دعا کو ترک کیا تھا
حدیث نمبر: 3113
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ ⦗٢٩٠⦘ مُنِيبٍ، ثنا الْفُضَيْلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ الْأَسْوَدَ، وَعَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ قَالَا: " صَلَّيْنَا خَلْفَ عُمَرَ الْفَجْرَ فَلَمْ يَقْنُتْ " مَنْصُورٌ وَإِنْ كَانَ أَحْفَظَ وَأَوْثَقَ مِنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ فَرِوَايَةُ حَمَّادٍ فِي هَذَا تُوَافِقُ الْمَذْهَبَ الْمَشْهُورَ، عَنْ عُمَرَ فِي الْقُنُوتِ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ اسود اور عمرو بن میمون دونوں روایت کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھی تو انہوں نے قنوت نہیں پڑھی۔