کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إن رجلا لم يعمل خيرا قط وكان يداين الناس فيقول لرسوله: خذ ما تيسر واترك ما عسر وتجاوز لعل الله أن يتجاوز عنا فلما هلك قال الله: هل عملت خيرا قط؟ قال: لا إلا أنه كان لي غلام كنت أداين الناس فإذا بعثته يتقاضى قلت له: خذ ما تيسر واترك ما عسر وتجاوز لعل الله أن يتجاوز عنا قال الله: قد
تجاوزت عنك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بےشک ایک شخص نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی سوائے اس کے کہ وہ لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا اور اپنے کارندے (نوکر) سے کہا کرتا تھا: جو آسانی سے مل جائے وہ لے لو اور جو مشکل ہو اسے چھوڑ دو، اور درگذر کرو شاید کہ اللہ بھی ہم سے درگذر کر دے۔ جب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو نے کبھی کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: نہیں، سوائے اس کے کہ میرا ایک غلام تھا اور میں لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، جب میں اسے وصولی کے لیے بھیجتا تو کہتا تھا: جو آسانی سے ملے لے لو اور جو مشکل ہو چھوڑ دو اور درگذر کرو، شاید کہ اللہ ہم سے بھی درگذر کر دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تجھ سے درگذر فرما دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2078
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ن حب ك] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ٨٩٦.
«إن رجلا ممن كان قبلكم أتاه ملك الموت ليقبض نفسه فقال له: هل عملت من خير؟ قال: ما أعلم قال له: انظر قال: ما أعلم شيئا غير أني كنت أبايع الناس وأحارفهم فأنظر المعسر وأتجاوز عن الموسر فأدخله الله الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بےشک تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کے پاس موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لیے آیا تو اس سے کہا: کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: میری یاد میں تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ اس سے کہا گیا: ذرا غور کرو۔ اس نے کہا: میری سمجھ میں کوئی نیکی نہیں آتی سوائے اس کے کہ میں لوگوں کے ساتھ لین دین اور خرید و فروخت کیا کرتا تھا، تو تنگدست کو مہلت دیتا تھا اور مالدار کو معاف کر دیتا (یا نرمی کرتا) تھا۔ تو اللہ نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2079
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن حذيفة وأبي مسعود. صحيح الترغيب ٨٩٤.
«إن رجلا من أهل الجنة استأذن ربه في الزرع فقال له: ألست فيما شئت؟ قال: بلى ولكن أحب أن أزرع! فبذر فبادر الطرف نباته واستواؤه واستحصاده فكان أمثال الجبال فيقول الله: دونك يا ابن آدم! فإنه لا يشبعك شيء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بےشک جنتیوں میں سے ایک شخص نے اپنے رب سے کھیتی باڑی کرنے کی اجازت مانگی، تو اللہ نے فرمایا: کیا تو اس چیز میں نہیں ہے جو تو چاہتا ہے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں! لیکن میں پسند کرتا ہوں کہ کھیتی باڑی کروں۔ تو اس نے بیج بویا، تو پل جھپکتے ہی اس کا اگنا، سیدھا ہونا اور کٹنے کے قابل ہونا سب ہو گیا اور وہ پہاڑوں جیسے بڑے ہو گئے۔ تو اللہ نے فرمایا: اے ابنِ آدم! اسے سنبھال، کیونکہ تجھے کوئی چیز سیر نہیں کرتی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2080
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي هريرة.
"إن رجلا من بني إسرائيل سأل بعض بني إسرائيل أن يسلفه ألف دينار فقال: ائتني بالشهداء أشهدهم فقال: كفى بالله شهيدا قال: فأتني بالكفيل قال: كفى بالله وكيلا قال: صدقت فدفعها إليه إلى أجل مسمى فخرج في البحر فقضى حاجته ثم التمس مركبا يركبها يقدم عليه للأجل الذي أجله فلم يجد مركبا فأخذ خشبة فنقرها فأدخل فيها ألف دينار وصحيفة منه إلى صاحبه ثم زج موضعها ثم أتى بها إلى البحر فقال: اللهم إنك تعلم أني تسلفت فلانا ألف دينار فسألني كفيلا فقلت: كفى بالله وكيلا فرضي بك وسألني شهيدا فقلت: كفى بالله شهيدا فرضي بك وإني جهدت أن أجد مركبا أبعث إليه الذي له فلم أجد وإني أستودعكها فرمى بها إلى البحر حتى ولجت فيه ثم انصرف وهو في ذلك يلتمس مركبا يخرج
إلى بلده فخرج الرجل الذي كان أسلفه ينظر لعل مركبا قد جاء بماله فإذا بالخشبة التي فيها المال فأخذها لأهله حطبا فلما نشرها وجد المال والصحيفة ثم قدم الذي كان أسلفه فأتى بالألف دينار وقال: والله ما زلت جاهدا في طلب مركب لآتيك بمالك فما وجدت مركبا قبل الذي أتيت فيه قال: هل كنت بعثت إلي شيئا؟ قال: أخبرك أني لم أجد مركبا قبل الذي جئت فيه قال: فإن الله قد أدى عنك الذي بعثت في الخشبة فانصرف بالألف دينار راشدا"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی نے بنی اسرائیل کے کسی دوسرے آدمی سے ایک ہزار دینار قرض مانگا، تو اس نے کہا: میرے پاس گواہ لے آؤ تاکہ میں انہیں گواہ بنا لوں۔ اس نے کہا: اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔ اس نے کہا: تو پھر میرے پاس ضامن لے آؤ۔ اس نے کہا: اللہ کارساز کے طور پر کافی ہے۔ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، پس اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے وہ رقم اسے دے دی۔ وہ آدمی سمندر کے سفر پر نکلا اور اپنی ضرورت پوری کی، پھر اس نے کوئی جہاز تلاش کیا جس پر سوار ہو کر وہ مقررہ مدت پر واپس پہنچ سکے، مگر اسے کوئی جہاز نہ ملا۔ تو اس نے ایک لکڑی لی، اسے کھوکھلا کیا، اس میں ہزار دینار اور اپنے ساتھی کے نام ایک خط رکھ دیا، پھر اس کی جگہ کو بند کر دیا، پھر اسے سمندر کے پاس لے آیا اور کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیا تھا، اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہا کہ اللہ کارساز کے طور پر کافی ہے، تو وہ تجھ پر راضی ہو گیا، اور اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو میں نے کہا کہ اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے، تو وہ تجھ پر راضی ہو گیا، اور میں نے پوری کوشش کی کہ کوئی جہاز پاؤں جس کے ذریعے اس کا حق اس تک بھیج سکوں مگر مجھے کوئی جہاز نہ ملا، اب میں یہ رقم تیرے سپرد کرتا ہوں۔ پھر اس نے وہ لکڑی سمندر میں پھینک دی یہاں تک کہ وہ اس میں ڈوب گئی۔ پھر وہ واپس چلا گیا جبکہ وہ اب بھی اپنے شہر کی طرف جانے کے لیے کوئی جہاز تلاش کر رہا تھا۔ ادھر وہ آدمی جس نے قرض دیا تھا، یہ دیکھنے نکلا کہ شاید کوئی جہاز اس کا مال لے کر آیا ہو، تو اسے وہی لکڑی ملی جس میں مال تھا، اس نے اسے اپنے گھر والوں کے لیے جلانے کی لکڑی سمجھ کر اٹھا لیا۔ جب اس نے اسے چیرا تو اس میں مال اور خط پایا۔ پھر جس نے قرض لیا تھا وہ آ پہنچا اور ہزار دینار لے کر آیا اور کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں مسلسل کوشش کرتا رہا کہ کوئی جہاز پاؤں تاکہ تمہارا مال تمہیں پہنچا سکوں، مگر مجھے اس جہاز سے پہلے جس میں، میں آیا ہوں، کوئی جہاز نہ ملا۔ اس نے کہا: کیا تم نے مجھے کچھ بھیجا تھا؟ اس نے کہا: میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ مجھے اس جہاز سے پہلے جس میں، میں آیا ہوں، کوئی جہاز نہ ملا۔ اس نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے وہ رقم پہنچا دی ہے جو تم نے اس لکڑی میں بھیجی تھی، پس اب اپنا ہزار دینار لے کر خوشی خوشی واپس جاؤ۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2081
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ] عن أبي هريرة.
«إن رجلا ممن كان قبلكم خرجت به قرحة فلما آذته انتزع سهما من كنانته فنكأها فلم يرقأ الدم حتى مات فقال الله: عبدي بادرني بنفسه حرمت عليه الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم سے پہلے کی امتوں میں ایک شخص تھا جسے ایک پھوڑا نکل آیا، جب اس پھوڑے نے اسے شدید تکلیف دی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا اور اسے چیر ڈالا۔ پھر اس کا خون بند نہ ہوا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے جان دینے میں مجھ پر جلدی کی، اس لیے میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2082
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن جندب البجلي١.
«إن رجلا يأتيكم من اليمن يقال له: أويس لا يدع باليمن غير أم له قد كان به بياض فدعا الله فأذهبه عنه إلا مثل موضع الدرهم فمن لقيه منكم فمروه فليستغفر لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تمہارے پاس یمن سے ایک شخص آئے گا جسے اویس کہا جاتا ہے۔ وہ یمن میں اپنی والدہ کے سوا کسی کو پیچھے نہیں چھوڑے گا۔ اسے برص (سفید داغ) کی بیماری تھی، پس اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے اس بیماری کو اس سے دور کر دیا، سوائے ایک درہم کی مقدار کے برابر جگہ کے۔ پس تم میں سے جو شخص بھی اس سے ملے تو اسے چاہیے کہ وہ اس (اویس) سے کہے کہ وہ تمہارے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2083
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عمر.
«إن روح القدس معك ما هاجيتهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک «رُوحُ القُدُس» (یعنی حضرت جبریل علیہ السلام) اس وقت تک تمہارے ساتھ ہیں جب تک تم (اپنے اشعار کے ذریعے) ان (مشرکین) کی ہجو کا جواب دیتے رہو گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2084
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن البراء٢. الصحيحة ٨٠١.
"إن روح القدس نفث في روعي أن نفسا لن تموت حتى تستكمل أجلها وتستوعب رزقها فاتقوا الله وأجملوا في الطلب ولا يحملن أحدكم استبطاء الرزق أن يطلبه بمعصية الله فإن الله
تعالى لا ينال ما عنده إلا بطاعته"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک «رُوحُ القُدُس» (یعنی حضرت جبریل علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی جان اس وقت تک نہیں مرے گی جب تک وہ اپنی مدتِ حیات پوری نہ کر لے اور اپنا رزق مکمل طور پر حاصل نہ کر لے، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور رزق طلب کرنے میں میانہ روی اختیار کرو۔ اور رزق ملنے میں تاخیر تم میں سے کسی کو اس بات پر ہرگز نہ اکسائے کہ وہ اسے اللہ کی نافرمانی کے ذریعے طلب کرنے لگے، کیونکہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اسے صرف اس کی اطاعت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2085
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حل] عن أبي أمامة. المشكاة ٥٣٠٠، فقه السيرة ٩٦.
«إن روح القدس لا يزال يؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله» - قاله لحسان - "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک «رُوحُ القُدُس» (یعنی حضرت جبریل علیہ السلام) مسلسل تمہاری تائید کرتے رہیں گے جب تک تم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے دفاع کرتے رہو گے۔“ آپ ﷺ نے یہ بات حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمائی۔
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2086
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م] عن عائشة. الصحيحة ١١٨٠.
«إن زاهرا باديتنا ونحن حاضروه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک زاہر ہمارا دیہاتی (دوست) ہے اور ہم اس کے شہری (دوست) ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2087
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [البغوي] عن أنس. المشكاة ٤٨٨٩: حم، تخ، ت في [الشمائل] ، حب.
«إن ساقي القوم آخرهم شربا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قوم کو پانی پلانے والا خود سب کے آخر میں پیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2088
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م١] عن أبي قتادة. الروض النضير ١٠١٤.
«إن سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر تنفض الخطايا كما تنفض الشجرة ورقها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک «سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جس طرح درخت اپنے پتوں کو جھاڑتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2089
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم خد] عن أنس. المشكاة ٢٣١٨، الترغيب ٢/٢٤٩: ت، حل.
«إن سليمان بن داود لما بنى بيت المقدس سأل الله عز وجل خلالا ثلاثة: سأل الله حكما يصادف حكمه فأوتيه وسأل الله ملكا لا ينبغي لأحد من بعده فأوتيه وسأل الله حين فرغ من بناء المسجد أن لا يأتيه أحد لا ينهزه إلا الصلاة فيه أن يخرجه من خطيئته كيوم ولدته أمه أما اثنتان فقد أعطيهما وأرجوا أن يكون قد أعطي الثالثة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک سلیمان بن داود (علیہما السلام) نے جب بیت المقدس کی تعمیر کی تو انہوں نے اللہ عزوجل سے تین چیزوں کا سوال کیا: انہوں نے اللہ سے ایسا فیصلہ کرنے کی صلاحیت مانگی جو اس (اللہ) کے فیصلے کے موافق ہو، تو انہیں وہ عطا کر دی گئی۔ اور انہوں نے اللہ سے ایسی بادشاہت مانگی جو ان کے بعد کسی اور کے لائق نہ ہو، تو وہ بھی انہیں عطا کر دی گئی۔ اور انہوں نے اللہ سے سوال کیا، جب وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے، کہ جو شخص بھی اس مسجد میں آئے اور اس کا مقصد سوائے اس میں نماز پڑھنے کے کچھ اور نہ ہو، تو اللہ اسے اس کے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے وہ اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔ پہلی دو چیزیں تو انہیں عطا کر دی گئیں، اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی انہیں عطا کر دی گئی ہوگی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2090
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ حب ك] عن ابن عمرو٤. الترغيب ٢/١٣٧: ابن خزيمة، ابن عساكر.
"إن سورة من القرآن ثلاثون آية شفعت لرجل حتى غفر
له وهي: {تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ} "
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قرآن مجید کی ایک سورت، جس کی تیس آیات ہیں، اس نے ایک آدمی کی سفارش کی یہاں تک کہ اسے بخش دیا گیا، اور وہ ﴿تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ﴾ ہے۔“ [سورة الملك: 1]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2091
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ٤ حب ك] عن أبي هريرة.
«إن سورة من كتاب الله ما هي إلا ثلاثون آية شفعت لرجل فأخرجته من النار وأدخلته الجنة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک کتاب اللہ (قرآن مجید) کی ایک سورت، جس کی صرف تیس آیات ہیں، اس نے ایک آدمی کی سفارش کی تو اسے جہنم سے نکال دیا اور جنت میں داخل کر دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2092
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ك] عن أبي هريرة. الترغيب ٢/٢٢٢.
«إن سياحة أمتي الجهاد في سبيل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک میری امت کی سیاحت (یعنی زمین میں نکلنا) اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2093
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك هب] عن أبي أمامة. المشكاة ٧٢٤: ابن عساكر. ابن المبارك – سعد بن مسعود الكنددي.
«إن شر الرعاء الحطمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک بدترین چرواہا وہ ہے جو (جانوروں پر ظلم کر کے انہیں) کچل دینے والا ہو۔“ (یعنی جو حکمران اپنی رعایا پر ظلم و زیادتی کرے)۔
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2094
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عائذ بن عمرو. مختصر مسلم ١٢١٢.
«إن شر الناس منزلة عند الله يوم القيامة من تركه الناس اتقاء فحشه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرتبے کے لحاظ سے بدترین شخص وہ ہوگا جسے لوگوں نے اس کی بدزبانی (اور شر) سے بچنے کے لیے چھوڑ دیا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2095
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ت] عن عائشة. الصحيحة ١٠٤٩: حم.
«إن شهداء أمتي إذن لقليل القتل في سبيل الله شهادة والمطعون شهادة والمرأة تموت بجمع شهادة والغرق والحرق والمجنوب شهادة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اگر ایسا ہو (یعنی صرف میدانِ جنگ میں مرنے والے ہی شہید ہوں) تو پھر میری امت کے شہید بہت کم ہوں گے! اللہ کے راستے میں قتل ہونا شہادت ہے، طاعون کی بیماری میں مرنا شہادت ہے، وہ عورت جو حمل (یا ولادت) کی حالت میں فوت ہو جائے اس کی موت شہادت ہے، اور ڈوبنے، جلنے، اور «المجنوب» (پسلی کے ورم کی بیماری) کی وجہ سے مرنے والے کی موت بھی شہادت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2096
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن جابر بن عتيك. الترغيب ٢/٢٠١، كتاب الجنائز ٣٦ بمعناه عن أبي هريرة ومسلم ٦/٥١ وأحمد. ٢/٥٢٢.
«إن صاحب الشمال ليرفع القلم ست ساعات عن العبد المسلم المخطئ فإن ندم واستغفر الله منها ألقاها وإلا كتبت واحدة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بائیں طرف والا (گناہ لکھنے والا) فرشتہ غلطی کرنے والے مسلمان بندے سے چھ گھنٹے (یا چھ گھڑیوں) تک قلم اٹھائے رکھتا ہے، پھر اگر وہ شرمندہ ہو کر اللہ سے اس گناہ کی معافی مانگ لے تو وہ اسے چھوڑ دیتا ہے (یعنی گناہ نہیں لکھتا)، ورنہ (اس کے نامہ اعمال میں) ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2097
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمامة. الصحيحة ١٢٠٩: حل، هب.
«إن صلاة الرجل في الجماعة تزيد على صلاته وحده بخمس وعشرين جزءا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا، اس کے اکیلے نماز پڑھنے پر پچیس درجے فضیلت رکھتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2098
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. مختصر البخاري ٢٦٥، مختصرمسلم ٣٢٢.
«إن طعام الواحد يكفي الاثنين وإن طعام الاثنين يكفي الثلاثة والأربعة وإن طعام الأربعة يكفي الخمسة والستة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک ایک آدمی کا کھانا دو کے لیے کافی ہو جاتا ہے، اور دو آدمیوں کا کھانا تین اور چار کے لیے کافی ہو جاتا ہے، اور چار آدمیوں کا کھانا پانچ اور چھ کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2099
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن عمر٢. الصحيحة ١٦٨٦.
«إن طول صلاة الرجل وقصر خطبته مئنة من فقهه فأطيلوا الصلاة وأقصروا الخطبة وإن من البيان لسحرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”کسی آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور اس کے خطبے کا مختصر ہونا، اس کی فقاہت (دین کی گہری سمجھ) کی علامت ہے۔ لہٰذا تم نماز لمبی پڑھایا کرو اور خطبہ مختصر دیا کرو، اور بے شک بعض بیانات (اور تقریروں) میں جادو (جیسی تاثیر) ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2100
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عمار بن ياسر. الإرواء ٦١٨.
«إن عاشوراء يوم من أيام الله فمن شاء صامه ومن شاء تركه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک عاشورہ (دسویں محرم) کا دن اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک دن ہے۔ پس جو چاہے اس دن کا روزہ رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2101
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن ابن عمر. مختصر مسلم ٦١١ بنحوه عن عائشة.
«إن عامة عذاب القبر من البول فتنزهوا منه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک عذابِ قبر کا زیادہ تر حصہ پیشاب (کے چھینٹوں سے نہ بچنے) کی وجہ سے ہوتا ہے، لہٰذا تم اس سے بچا کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2102
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عبد بن حميد البزار طب ك] عن ابن عباس. صحيح الترغيب ١٥٢: قط، أبو نعيم.
«إن عبدا أصاب ذنبا فقال: رب أذنبت فاغفره فقال ربه: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي ثم مكث ما شاء الله ثم أصاب ذنبا فقال: ربي أذنبت آخر فاغفر لي قال: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي ثم أصاب ذنبا فقال: رب أذنبت آخر فاغفر لي قال: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ قد غفرت لعبدي فليعمل ما شاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ایک بندے سے گناہ سرزد ہو گیا تو اس نے کہا: اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا ہے، پس اسے بخش دے۔ تو اس کے رب نے فرمایا: کیا میرے بندے نے یہ جان لیا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور اس پر گرفت بھی کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر وہ جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرا رہا، پھر اس سے ایک اور گناہ ہو گیا، تو اس نے کہا: اے میرے رب! مجھ سے ایک اور گناہ ہو گیا ہے، پس مجھے بخش دے۔ اللہ نے فرمایا: کیا میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر اس سے ایک اور گناہ ہو گیا تو اس نے کہا: اے میرے رب! مجھ سے ایک اور گناہ ہو گیا ہے، پس اسے بخش دے۔ اللہ نے فرمایا: کیا میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے، اب وہ جو چاہے عمل کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2103
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة١. الضعيفة ٣٢٤.
«إن عبد الله بن قيس أعطي مزمارا من مزامير آل داود»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کو آلِ داود (علیہ السلام) کی خوش الحانیوں میں سے ایک خوش الحانی عطا کی گئی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2104
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خد م ن] عن بريدة.
«إن عبد الله رجل صالح لو كان يكثر الصلاة من الليل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عبداللہ کتنا ہی نیک آدمی ہے، کاش وہ رات کے وقت (تہجد کی) نماز کثرت سے پڑھا کرے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2105
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق هـ] عن حفصة.
«إن عثمان حيي ستير تستحي منه الملائكة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک عثمان بہت زیادہ حیا والے اور پردہ پوش ہیں، ان سے تو فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2106
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ع] عن عائشة. الصحيحة ١٦٧٨.
«إن عثمان رجل حيي وإني خشيت إن أذنت له وأنا على تلك الحال أن لا يبلغ إلي في حاجته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک عثمان ایک باحیا آدمی ہیں، اور مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے انہیں اسی (بے تکلفی کی) حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی تو وہ مجھ سے اپنی ضرورت (پوری طرح) بیان نہیں کر سکیں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2107
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن عائشة. الصحيحة ١٦٨٧: خد، الطحاوي، ع.
"إن عدو الله إبليس جاء بشهاب من نار ليجعله
في وجهي فقلت: أعوذ بالله منك ثلاث مرات ثم قلت: ألعنك بلعنة الله التامة فلم يستأخر ثلاث مرات ثم أردت أن آخذه والله لولا دعوة أخينا سليمان لأصبح موثقا يلعب به ولدان أهل المدينة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اللہ کا دشمن ابلیس آگ کا ایک شعلہ لے کر آیا تاکہ اسے میرے چہرے پر مارے، تو میں نے تین مرتبہ کہا: میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر میں نے تین مرتبہ کہا: میں تجھ پر اللہ کی مکمل لعنت کے ساتھ لعنت بھیجتا ہوں، لیکن وہ پیچھے نہ ہٹا۔ پھر میں نے ارادہ کیا کہ اسے پکڑ لوں۔ اللہ کی قسم! اگر ہمارے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی دعا نہ ہوتی تو وہ صبح اس حال میں کرتا کہ بندھا ہوا ہوتا اور مدینے کے بچے اس کے ساتھ کھیلتے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2108
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن أبي الدرداء. الإرواء ٣٩١.
«إن عذاب هذه الأمة جعل في دنياها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک اس امت کا عذاب اسی دنیا میں رکھ دیا گیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2109
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن عبد الله بن يزيد. الصحيحة ٩٥٩: خط.
«إن عظم الجزاء مع عظم البلاء وإن الله تعالى إذا أحب قوما ابتلاهم فمن رضي فله الرضا ومن سخط فله السخط»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک جزا کی بڑائی مصیبت کی بڑائی کے ساتھ ہے (یعنی آزمائش جتنی بڑی ہوگی، ثواب بھی اتنا ہی عظیم ہوگا)، اور بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے۔ پس جو اس پر راضی ہو گیا اس کے لیے (اللہ کی) رضا ہے، اور جو ناراض ہوا اس کے لیے (اللہ کی) ناراضگی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2110
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت هـ] عن أنس. المشكاة ١٥٦٦، الصحيحة ١٤٦.
«إن عفريتا من الجن تفلت علي البارحة ليقطع على الصلاة فأمكنني الله منه فذعته وأردت أن أربطه إلى سارية من سواري المسجد حتى تصبحوا وتنظروا إليه كلكم فذكرت قول أخي سليمان {رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} فرده الله خاسئا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گزشتہ رات جنات میں سے ایک سرکش جن نے مجھ پر اچانک حملہ کیا تاکہ میری نماز توڑ دے، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ اور میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھ سکو۔ لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی یہ دعا یاد آ گئی: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ [سورة ص: 35]، تو اللہ تعالیٰ نے اس (جن) کو ذلیل و خوار کر کے لوٹا دیا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2111
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أبي هريرة.
«إن علما لا ينتفع به ككنز لا ينفق منه في سبيل الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک وہ علم جس سے فائدہ نہ اٹھایا جائے، اس خزانے کی طرح ہے جس میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ نہ کیا جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2112
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ابن عساكر] عن أبي هريرة. صحيح الترغيب ١١٨: حم، الدارمي، طس، ابن عبد البر.
«إن عم الرجل صنو أبيه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک آدمی کا چچا اس کے باپ کی مانند (یعنی اسی کی شاخ اور قائم مقام) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2113
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. الإرواء ٨٥٨.
"إن غلظ جلد الكافر اثنان وأربعون ذراعا بذراع
الجبار وإن ضرسه مثل أحد وإن مجلسه من جهنم ما بين مكة والمدينة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک کافر کے جسم کی کھال کی موٹائی جبار (یعنی عظیم الجثہ شخص) کے ہاتھ کی پیمائش کے مطابق بیالیس ہاتھ ہوگی، اور اس کی داڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی، اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی وسیع ہوگی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2114
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ك] عن أبي هريرة. المشكاة ٥٦٧٥، الصحيحة ١١٠٥، الأسماء ٣٤٢.
«إن فاطمة بضعة مني وأنا أتخوف أن تفتن في دينها وإني لست أحرم حلالا ولا أحل حراما ولكن والله لا تجتمع بنت رسول الله وبنت عدو الله تحت رجل واحد أبدا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں فتنے کا شکار نہ ہو جائے۔ اور بے شک میں کسی حلال کو حرام نہیں کرتا اور نہ کسی حرام کو حلال کرتا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی بھی ایک شخص کے نکاح میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2115
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د هـ] عن المسور بن مخرمة. مختصر مسلم ١٦٥٤.
«إن فسطاط المسلمين يوم الملحمة بالغوطة إلى جانب مدينة يقال لها دمشق من خير مدائن الشام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بڑی جنگ (ملحمہ کبریٰ) کے دن مسلمانوں کا خیمہ (مرکز) غوطہ میں ہوگا، جو دمشق کہلانے والے شہر کے پہلو میں ہے، اور یہ شام کے بہترین شہروں میں سے ایک ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2116
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن أبي الدرداء. فضائل دمشق ٣٥ وزاد أحمد، والحاكم.
«إن فضل عائشة على النساء كفضل الثريد على سائر الطعام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورتوں پر عائشہ کی فضیلت بالکل ویسی ہی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو فضیلت حاصل ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2117
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن أنس [ن] عن أبي موسى [ن] عن عائشة. مختصر مسلم ١٦٦٧.