حدیث نمبر: 2090
«إن سليمان بن داود لما بنى بيت المقدس سأل الله عز وجل خلالا ثلاثة: سأل الله حكما يصادف حكمه فأوتيه وسأل الله ملكا لا ينبغي لأحد من بعده فأوتيه وسأل الله حين فرغ من بناء المسجد أن لا يأتيه أحد لا ينهزه إلا الصلاة فيه أن يخرجه من خطيئته كيوم ولدته أمه أما اثنتان فقد أعطيهما وأرجوا أن يكون قد أعطي الثالثة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بے شک سلیمان بن داود (علیہما السلام) نے جب بیت المقدس کی تعمیر کی تو انہوں نے اللہ عزوجل سے تین چیزوں کا سوال کیا: انہوں نے اللہ سے ایسا فیصلہ کرنے کی صلاحیت مانگی جو اس (اللہ) کے فیصلے کے موافق ہو، تو انہیں وہ عطا کر دی گئی۔ اور انہوں نے اللہ سے ایسی بادشاہت مانگی جو ان کے بعد کسی اور کے لائق نہ ہو، تو وہ بھی انہیں عطا کر دی گئی۔ اور انہوں نے اللہ سے سوال کیا، جب وہ مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے، کہ جو شخص بھی اس مسجد میں آئے اور اس کا مقصد سوائے اس میں نماز پڑھنے کے کچھ اور نہ ہو، تو اللہ اسے اس کے گناہوں سے اس طرح پاک کر دے جیسے وہ اس دن تھا جب اسے اس کی ماں نے جنا تھا۔ پہلی دو چیزیں تو انہیں عطا کر دی گئیں، اور مجھے امید ہے کہ تیسری بھی انہیں عطا کر دی گئی ہوگی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2090
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ن هـ حب ك] عن ابن عمرو٤. الترغيب ٢/١٣٧: ابن خزيمة، ابن عساكر.