حدیث نمبر: 2103
«إن عبدا أصاب ذنبا فقال: رب أذنبت فاغفره فقال ربه: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي ثم مكث ما شاء الله ثم أصاب ذنبا فقال: ربي أذنبت آخر فاغفر لي قال: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ غفرت لعبدي ثم أصاب ذنبا فقال: رب أذنبت آخر فاغفر لي قال: أعلم عبدي أن له ربا يغفر الذنب ويأخذ به؟ قد غفرت لعبدي فليعمل ما شاء»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ایک بندے سے گناہ سرزد ہو گیا تو اس نے کہا: اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا ہے، پس اسے بخش دے۔ تو اس کے رب نے فرمایا: کیا میرے بندے نے یہ جان لیا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا بھی ہے اور اس پر گرفت بھی کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر وہ جب تک اللہ نے چاہا ٹھہرا رہا، پھر اس سے ایک اور گناہ ہو گیا، تو اس نے کہا: اے میرے رب! مجھ سے ایک اور گناہ ہو گیا ہے، پس مجھے بخش دے۔ اللہ نے فرمایا: کیا میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا۔ پھر اس سے ایک اور گناہ ہو گیا تو اس نے کہا: اے میرے رب! مجھ سے ایک اور گناہ ہو گیا ہے، پس اسے بخش دے۔ اللہ نے فرمایا: کیا میرے بندے نے جان لیا ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے؟ میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ہے، اب وہ جو چاہے عمل کرے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2103
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة١. الضعيفة ٣٢٤.