حدیث نمبر: 2111
«إن عفريتا من الجن تفلت علي البارحة ليقطع على الصلاة فأمكنني الله منه فذعته وأردت أن أربطه إلى سارية من سواري المسجد حتى تصبحوا وتنظروا إليه كلكم فذكرت قول أخي سليمان {رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي} فرده الله خاسئا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”گزشتہ رات جنات میں سے ایک سرکش جن نے مجھ پر اچانک حملہ کیا تاکہ میری نماز توڑ دے، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قابو دے دیا اور میں نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ اور میں نے ارادہ کیا کہ اسے مسجد کے ستونوں میں سے کسی ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح تم سب اسے دیکھ سکو۔ لیکن پھر مجھے اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام) کی یہ دعا یاد آ گئی: ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكاً لا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي﴾ ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ [سورة ص: 35]، تو اللہ تعالیٰ نے اس (جن) کو ذلیل و خوار کر کے لوٹا دیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2111
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن أبي هريرة.