صحیح الجامع الصغیر
حرف الألف— حرف الف
الأحاديث المبدوءة بحرف الألف باب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
"إن رجلا من بني إسرائيل سأل بعض بني إسرائيل أن يسلفه ألف دينار فقال: ائتني بالشهداء أشهدهم فقال: كفى بالله شهيدا قال: فأتني بالكفيل قال: كفى بالله وكيلا قال: صدقت فدفعها إليه إلى أجل مسمى فخرج في البحر فقضى حاجته ثم التمس مركبا يركبها يقدم عليه للأجل الذي أجله فلم يجد مركبا فأخذ خشبة فنقرها فأدخل فيها ألف دينار وصحيفة منه إلى صاحبه ثم زج موضعها ثم أتى بها إلى البحر فقال: اللهم إنك تعلم أني تسلفت فلانا ألف دينار فسألني كفيلا فقلت: كفى بالله وكيلا فرضي بك وسألني شهيدا فقلت: كفى بالله شهيدا فرضي بك وإني جهدت أن أجد مركبا أبعث إليه الذي له فلم أجد وإني أستودعكها فرمى بها إلى البحر حتى ولجت فيه ثم انصرف وهو في ذلك يلتمس مركبا يخرج
إلى بلده فخرج الرجل الذي كان أسلفه ينظر لعل مركبا قد جاء بماله فإذا بالخشبة التي فيها المال فأخذها لأهله حطبا فلما نشرها وجد المال والصحيفة ثم قدم الذي كان أسلفه فأتى بالألف دينار وقال: والله ما زلت جاهدا في طلب مركب لآتيك بمالك فما وجدت مركبا قبل الذي أتيت فيه قال: هل كنت بعثت إلي شيئا؟ قال: أخبرك أني لم أجد مركبا قبل الذي جئت فيه قال: فإن الله قد أدى عنك الذي بعثت في الخشبة فانصرف بالألف دينار راشدا"(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی نے بنی اسرائیل کے کسی دوسرے آدمی سے ایک ہزار دینار قرض مانگا، تو اس نے کہا: میرے پاس گواہ لے آؤ تاکہ میں انہیں گواہ بنا لوں۔ اس نے کہا: اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے۔ اس نے کہا: تو پھر میرے پاس ضامن لے آؤ۔ اس نے کہا: اللہ کارساز کے طور پر کافی ہے۔ اس نے کہا: تم نے سچ کہا، پس اس نے ایک مقررہ مدت کے لیے وہ رقم اسے دے دی۔ وہ آدمی سمندر کے سفر پر نکلا اور اپنی ضرورت پوری کی، پھر اس نے کوئی جہاز تلاش کیا جس پر سوار ہو کر وہ مقررہ مدت پر واپس پہنچ سکے، مگر اسے کوئی جہاز نہ ملا۔ تو اس نے ایک لکڑی لی، اسے کھوکھلا کیا، اس میں ہزار دینار اور اپنے ساتھی کے نام ایک خط رکھ دیا، پھر اس کی جگہ کو بند کر دیا، پھر اسے سمندر کے پاس لے آیا اور کہا: اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے فلاں شخص سے ایک ہزار دینار قرض لیا تھا، اس نے مجھ سے ضامن مانگا تو میں نے کہا کہ اللہ کارساز کے طور پر کافی ہے، تو وہ تجھ پر راضی ہو گیا، اور اس نے مجھ سے گواہ مانگا تو میں نے کہا کہ اللہ گواہ کے طور پر کافی ہے، تو وہ تجھ پر راضی ہو گیا، اور میں نے پوری کوشش کی کہ کوئی جہاز پاؤں جس کے ذریعے اس کا حق اس تک بھیج سکوں مگر مجھے کوئی جہاز نہ ملا، اب میں یہ رقم تیرے سپرد کرتا ہوں۔ پھر اس نے وہ لکڑی سمندر میں پھینک دی یہاں تک کہ وہ اس میں ڈوب گئی۔ پھر وہ واپس چلا گیا جبکہ وہ اب بھی اپنے شہر کی طرف جانے کے لیے کوئی جہاز تلاش کر رہا تھا۔ ادھر وہ آدمی جس نے قرض دیا تھا، یہ دیکھنے نکلا کہ شاید کوئی جہاز اس کا مال لے کر آیا ہو، تو اسے وہی لکڑی ملی جس میں مال تھا، اس نے اسے اپنے گھر والوں کے لیے جلانے کی لکڑی سمجھ کر اٹھا لیا۔ جب اس نے اسے چیرا تو اس میں مال اور خط پایا۔ پھر جس نے قرض لیا تھا وہ آ پہنچا اور ہزار دینار لے کر آیا اور کہنے لگا: اللہ کی قسم! میں مسلسل کوشش کرتا رہا کہ کوئی جہاز پاؤں تاکہ تمہارا مال تمہیں پہنچا سکوں، مگر مجھے اس جہاز سے پہلے جس میں، میں آیا ہوں، کوئی جہاز نہ ملا۔ اس نے کہا: کیا تم نے مجھے کچھ بھیجا تھا؟ اس نے کہا: میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ مجھے اس جہاز سے پہلے جس میں، میں آیا ہوں، کوئی جہاز نہ ملا۔ اس نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے وہ رقم پہنچا دی ہے جو تم نے اس لکڑی میں بھیجی تھی، پس اب اپنا ہزار دینار لے کر خوشی خوشی واپس جاؤ۔“