حدیث نمبر: 2079
«إن رجلا ممن كان قبلكم أتاه ملك الموت ليقبض نفسه فقال له: هل عملت من خير؟ قال: ما أعلم قال له: انظر قال: ما أعلم شيئا غير أني كنت أبايع الناس وأحارفهم فأنظر المعسر وأتجاوز عن الموسر فأدخله الله الجنة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بےشک تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کے پاس موت کا فرشتہ اس کی روح قبض کرنے کے لیے آیا تو اس سے کہا: کیا تو نے کوئی نیکی کی ہے؟ اس نے کہا: میری یاد میں تو ایسا کچھ نہیں ہے۔ اس سے کہا گیا: ذرا غور کرو۔ اس نے کہا: میری سمجھ میں کوئی نیکی نہیں آتی سوائے اس کے کہ میں لوگوں کے ساتھ لین دین اور خرید و فروخت کیا کرتا تھا، تو تنگدست کو مہلت دیتا تھا اور مالدار کو معاف کر دیتا (یا نرمی کرتا) تھا۔ تو اللہ نے اسے جنت میں داخل کر دیا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2079
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن حذيفة وأبي مسعود. صحيح الترغيب ٨٩٤.