حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نُهِيَ عَنِ الْجَلَّالَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جلالہ (نجاست خور جانور) سے منع کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنِ اسْتَعَاذَ بِاللهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ أَتَى إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُوهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى يَرَى أَنْ قَدْ كَافَئْتُمُوهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے واسطے سوال کرے اسے دو، اور جو اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو تمہیں دعوت دے اس کی دعوت قبول کرو، اور جو تمہارے ساتھ نیکی کرے اس کا بدلہ چکاؤ، اور اگر تمہیں بدلہ چکانے کے لیے کچھ نہ ملے تو اس کے لیے دعا کرو یہاں تک کہ وہ یہ سمجھ لے کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ مَهْدِيٍّ الْمَوْصِلِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَيْشِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا يَحْيَى أَبُو زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الذُّبَابُ فِي النَّارِ، وَنَهَى عَنْ قَتْلِ النَّحْلِ، وَأَنْ يُحْرَقَ الطَّعَامُ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مکھی آگ میں ہے“، اور آپ ﷺ نے شہد کی مکھی مارنے سے، اور دشمن کی سرزمین میں کھانا جلانے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا، الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا أَبِي، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ الذُّبَابِ فِي النَّارِ إِلَّا النَّحْلَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مکھی آگ میں ہے سوائے شہد کی مکھی کے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَخَلَفُ بْنُ عَمْرٍو الْعُكْبَرِيُّ، قَالَا: ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَّ صَوْتِهِ، وَيَشْهَدُّ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک اسے بخش دیا جاتا ہے، اور ہر تر و خشک چیز اس کے حق میں گواہی دیتی ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ السَّرِيِّ بْنِ مِهْرَانَ النَّاقِدُ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْكِبِي فَقَالَ: «كُنْ فِي الدُّنْيَا كَالْغَرِيبِ أَوْ كَعَابِرِ سَبِيلٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے میرا کندھا پکڑا اور فرمایا: ”دنیا میں ایسے رہو جیسے ایک اجنبی یا مسافر۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنُوا لِلنِّسَاءِ بِاللَّيْلِ إِلَى الْمَسْجِدِ» فَقَالَ ابْنُهُ: وَاللهِ لَا نَأْذَنُ لَهُنُّ فَيَتَّخِذْنَ ذَلِكَ دَغَلًا، فَقَالَ: " فَعَلَ اللهُ بِكَ وَفَعَلَ بِكَ تَسْمَعُنِي أَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَقُولُ أَنْتَ: لَا " قَالَ لَيْثٌ فِي حَدِيثِهِ: وَيَخْرُجْنَ تَفِلَاتٍ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کو رات کے وقت مسجد جانے کی اجازت دو۔“ تو ان کے بیٹے نے کہا: اللہ کی قسم! ہم انہیں اجازت نہیں دیں گے کیونکہ وہ اسے فتنے کا ذریعہ بنا لیں گی۔ اس پر انہوں نے فرمایا: ”اللہ تجھے یہ کرے اور وہ کرے! تم مجھ سے سنتے ہو کہ میں کہتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اور تم کہتے ہو نہیں!“ لیث اپنی روایت میں کہتے ہیں: اور وہ عورتیں بغیر خوشبو لگائے نکلا کرتیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَمْنَعُوا النِّسَاءَ الْمَسَاجِدَ بِاللَّيْلِ» فَقَالَ ابْنُهُ: وَاللهِ لَنَمْنَعُهُنَّ فَمَدَّ يَدَهُ فَلَطَمَهُ، وَقَالَ: «أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ مَا تَقُولُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورتوں کو رات کے وقت مسجدوں سے مت روکو۔“ تو ان کے بیٹے نے کہا: اللہ کی قسم! ہم انہیں ضرور روکیں گے۔ اس پر انہوں نے ہاتھ بڑھا کر اسے تھپڑ مارا اور فرمایا: ”میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کی حدیث سناتا ہوں اور تم یہ کہتے ہو؟“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَمُّوَيْهِ أَبُو سَيَّارٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى أَبُو غَسَّانَ السُّكَّرِيُّ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَشْهَدُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ لَهْوِكُمْ إِلَّا الرِّهَانَ، وَالنِّضَالَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے تمہارے کھیلوں میں سے صرف گھوڑ دوڑ اور تیر اندازی کے مقابلے میں حاضر ہوتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «يَا رَسُولَ اللهِ لَوِ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى» ، فَنَزَلَتْ: {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى} [البقرة: ١٢٥]
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش ہم مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنا لیتے! تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ“ [سورۃ البقرہ: 125]۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ النّشائِيُّ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا مِنْ هَذَا، وَدَعُوا هَذَا - يَعْنِي يَأْخُذُ مِنْ عَنْفَقَتِهِ، وَيَدَعُ لِحْيَتَهُ -»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس میں سے لو اور اسے چھوڑ دو“ - یعنی آپ ﷺ اپنی ٹھوڑی کے نیچے کے بالوں میں سے کچھ لیتے اور اپنی داڑھی چھوڑ دیتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مردوں میں سے زنانہ پن اختیار کرنے والوں پر، اور عورتوں میں سے مردانہ وضع اختیار کرنے والیوں پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ انْتَفَى مِنْ وَلَدِهِ لِيَفْضَحَهُ فِي الدُّنْيَا، فَضَحَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رُءُوسِ الْأَشْهَادِ قِصَاصٌ بِقِصَاصٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنی اولاد کا انکار کرے تاکہ اسے دنیا میں رسوا کرے، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن سب کے سامنے رسوا کرے گا، قصاص بقصاص۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَلِيٍّ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَمْيِ الْجِمَارِ مَا لَهُ فِيهِ؟ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «تَجِدُ ذَلِكَ عِنْدَ رَبِّكَ أَحْوَجَ مَا تَكُونُ إِلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے رمی جمار کے بارے میں پوچھا کہ اس میں اس کے لیے کیا فائدہ ہے؟ تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تم اسے اپنے رب کے پاس اس وقت پاؤ گے جب تمہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَمَةَ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللهِ فَأَعْطُوهُ، وَمَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللهِ فَأَعِيذُوهُ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ، وَمَنْ أَهْدَى إِلَيْكُمْ كُرَاعًا فَاقْبَلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو تم سے اللہ کے واسطے سوال کرے اسے دو، اور جو تم سے اللہ کی پناہ مانگے اسے پناہ دو، اور جو تمہیں دعوت دے اس کی دعوت قبول کرو، اور جو تمہیں پائے کا تحفہ بھی دے اسے قبول کرو۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَزِيزٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْفُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَسَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ حَتَّى صَلَّى الْمُصَلِّي، وَاسْتَيْقَظَ الْمُسْتَيْقِظُ، وَنَامَ النَّائِمُونَ، وَتَهَجَّدَ الْمُتَهَجِّدُونَ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ: «لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي أَمَرْتُهُمْ يُصَلُّونَ هَذَا الْوَقْتَ، أَوْ هَذِهِ الصَّلَاةَ» أَوْ نَحْوَ هَذَا
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر کی کہ نمازی نماز پڑھ چکا، جاگنے والا جاگ چکا، سونے والے سو چکے، اور تہجد گزار تہجد پڑھ چکے، پھر آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا خیال نہ ہوتا تو میں انہیں اسی وقت یہ نماز پڑھنے کا حکم دیتا“، یا اسی طرح کچھ فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: ثنا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ أَهْلَ النَّارِ يُعَظَّمُونَ فِي النَّارِ حَتَّى يَصِيرَ مَا بَيْنَ شَحْمَةِ أُذِنِ أَحَدِهِمْ إِلَى عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِ مِائَةِ عَامٍ، وَغِلَظُ جِلْدِ أَحَدِهِمْ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا وَضِرْسُهُ أَعْظَمَ مِنْ جَبَلِ أُحُدٍ» وَلَفْظُهُمَا وَاحِدٌ
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جہنمیوں کو آگ میں بڑا کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ ان میں سے ایک کے کان کی لو سے اس کے کندھے تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت کے برابر ہو جائے گا، اور اس کی کھال کی موٹائی چالیس ہاتھ ہو گی، اور اس کی داڑھ احد پہاڑ سے بڑی ہو گی۔“ اور دونوں راویوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لِجِنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ایک یہودی کے جنازے کے لیے کھڑے ہو گئے جو آپ ﷺ کے پاس سے گزرا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا إِسْرَائِيلُ، ثنا أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَّبِعَ جِنَازَةً مَعَهَا رَانَّةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم کسی ایسے جنازے کے ساتھ جائیں جس میں نوحہ خوانی ہو رہی ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُثْلَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مثلہ (لاش کے اعضا کاٹنے) سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَثَوَّبَ رَجُلٌ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ , فَقَالَ: «بِدْعَةٌ اخْرُجْ بِنَا فَإِنَّ هَذِهِ بِدْعَةٌ»
ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک آدمی نے ظہر اور عصر میں تثویب کی (اذان کے بعد دوبارہ پکارا) تو انہوں نے فرمایا: ”یہ بدعت ہے، ہمیں یہاں سے لے چلو، یہ بدعت ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ لَيْثٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حُجَّاجًا فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَهِلُّوا بِعُمْرَةٍ إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَإِنَّهُ قَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ حج کے ارادے سے تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! عمرے کا احرام باندھو، سوائے اس کے جس کے ساتھ ہدی کا جانور ہو، کیونکہ عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو چکا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَلُوسِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زَبَّانَ، ثنا مِنْدَلٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ رَجُلًا، قَدِمَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَبُو أُنَيْسٍ يَعْنِي الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، قَالَ: نَحْنُ وَهُوَ إِذَا لَقِينَاهُ، قُلْنَا لَهُ: مَا تُحِبُّ، وَإِذَا وَلَّيْنَا عَنْهِ قُلْنَا غَيْرَ ذَلِكَ، قَالَ: «ذَلِكَ مَا كُنَّا نَعُدُّ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النِّفَاقِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی نے پوچھا: تم اور ابوانیس - یعنی ضحاک بن قیس - کیسے ہو؟ انہوں نے فرمایا: ہم اور وہ، جب اس سے ملتے ہیں تو اسے وہ کہتے ہیں جو وہ پسند کرتا ہے، اور جب اس سے پیٹھ پھیرتے ہیں تو کچھ اور کہتے ہیں۔ فرمایا: ”یہی وہ بات ہے جسے ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نفاق شمار کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْفَضِيخِ قَالَ: وَمَا الْفَضِيخُ؟ قَالَ: نَفْضَخُ الْبُسْرَ، ثُمَّ نَجْعَلُ مَعَهُ التَّمْرَ، ثُمَّ نَذَرُهُ وَنَشْرَبُهُ، قَالَ: «ذَلِكَ الْفَضُوخُ وَلَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، وَإِنَّ عَامَّةَ شَرَابِهِمُ الَّذِي تَذْكُرُ»
ترجمہ
ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فضیخ کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: فضیخ کیا ہے؟ اس نے کہا: ہم کچی کھجور کو کچل لیتے ہیں، پھر اس میں خشک کھجور ملا دیتے ہیں، پھر اسے چھوڑ دیتے اور پی لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یہی فضوخ ہے، اور شراب تو حرام کر دی گئی ہے، اور تم جس کا ذکر کر رہے ہو وہی عام طور پر ان کا مشروب تھا۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ مُهَلْهَلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ عَنِ الْفَضِيخِ، فَقَالَ: وَمَا الْفَضِيخُ؟، قَالَ: بُسْرٌ، وَتَمْرٌ قَالَ: «ذَاكَ الْفَضُوخُ لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، وَهُوَ شَرَابُنَا»
ترجمہ
ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فضیخ کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: فضیخ کیا ہے؟ اس نے کہا: کچی اور خشک کھجور۔ انہوں نے فرمایا: ”یہی فضوخ ہے، شراب حرام کر دی گئی ہے اور یہی ہمارا سابقہ مشروب تھا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَعَلَهَا فِي بَطْنِهِ لَمْ تُقْبَلْ مِنْهُ صَلَاةٌ سَبْعًا، وَإِنْ مَاتَ فِيهِ مَاتَ كَافِرًا، فَإِنْ أَذْهَلَتْ عَقْلَهُ عَنْ شَيْءٍ مِنَ الْفَرَائِضِ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلَاةٌ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَإِنْ مَاتَ فِيهَا مَاتَ كَافِرًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو شراب پیئے اور اسے اپنے پیٹ میں ڈالے، اس کی نماز سات دن قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اسی حالت میں مر جائے تو کافر مرے گا۔ اور اگر اس نے اس کی عقل کو کسی فرض سے غافل کر دیا تو اس کی نماز چالیس دن تک قبول نہیں ہوتی، اور اگر وہ اسی حالت میں مر جائے تو کافر مرے گا۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ الْمِصْرِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ زُغْبَةَ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبْعَ الْقُرْآنِ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ» وَقَالَ: «هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ فِيهَا رَغِبَ الدَّهْرُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قل ھو اللہ احد قرآن کے تہائی کے برابر ہے، اور قل یا ایھا الکافرون قرآن کے چوتھائی کے برابر ہے“، اور آپ ﷺ فجر کی دو رکعتوں میں یہی دونوں سورتیں پڑھا کرتے تھے، اور فرمایا: ”یہی دو رکعتیں ہیں جن میں بڑی رغبت اور برکت ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبًا فِي الصَّلَاةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو نماز میں صف بندی کے وقت اپنے کندھے نرم رکھنے والے ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَى رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَافَحَهُ فَلَمْ يَنْزِعْ يَدَهُ مِنْ يَدِ الرَّجُلِ حَتَّى انْتَزَعَ الرَّجُلُ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا عُثْمَانُ؟ قَالَ: «ذَاكَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ»
ترجمہ
ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ سے مصافحہ کیا، تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس آدمی کے ہاتھ سے نہیں چھڑایا یہاں تک کہ اس آدمی نے خود اپنا ہاتھ کھینچ لیا، پھر اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عثمان کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اہل جنت میں سے ایک شخص ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ هَارُونَ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا اللَّيْثُ ابْنُ بِنْتِ اللَّيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي عَائِشَةُ بِنْتُ يُونُسَ امْرَأَةُ اللَّيْثِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ زَارَ قَبْرِي بَعْدَ مَوْتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِي بَعْدَ وَفَاتِي كَانَ كَمَنْ زَارَنِي فِي حَيَاتِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو حج کرے اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَّبِعَ جِنَازَةً فِيهَا رَانَّةٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم کسی ایسے جنازے کے ساتھ جائیں جس میں نوحہ خوانی ہو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا هُرَيْمُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «نَهَانَا أَوْ نُهِينَا أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَسْجِدٍ مُشْرِفٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہمیں بلند و آراستہ مسجد میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا گیا، یا ہمیں اس سے روکا گیا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ابْنَ آدَمَ اضْمَنْ لِي رَكْعَتَيْنِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَكْفِكَ آخِرَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے آدم کے بیٹے! دن کے شروع میں دو رکعتیں میرے لیے ضمانت دے دو، میں دن کے باقی حصے میں تیرے لیے کافی ہو جاؤں گا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى التَّوَّزِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ يَحْيَى الدَّبِيلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ، أنا جَابِرُ بْنُ يَحْيَى الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”جو شخص تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔“
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا تَدَعُوا الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ، فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ»
ترجمہ
اور میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: ”فجر کی نماز سے پہلے کی دونوں رکعتیں ترک نہ کرو، ان میں بڑی رغبت اور فضیلت ہے۔“
وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «لَا تَنْتَفِيَنَّ مِنْ وَلَدِكَ فَيْفَضَحَكَ اللهُ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ كَمَا فَضَحْتَهُ فِي الدُّنْيَا»
ترجمہ
اور میں نے انہیں یہ فرماتے سنا: ”اپنی اولاد کا انکار نہ کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمام مخلوق کے سامنے اسی طرح رسوا کرے گا جیسے تم نے اسے دنیا میں رسوا کیا۔“
…