المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
مجاهد، عن ابن عمر باب: مجاہد کی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 13432
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ رَجُلًا، قَدِمَ عَلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ: كَيْفَ أَنْتُمْ وَأَبُو أُنَيْسٍ يَعْنِي الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، قَالَ: نَحْنُ وَهُوَ إِذَا لَقِينَاهُ، قُلْنَا لَهُ: مَا تُحِبُّ، وَإِذَا وَلَّيْنَا عَنْهِ قُلْنَا غَيْرَ ذَلِكَ، قَالَ: «ذَلِكَ مَا كُنَّا نَعُدُّ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ النِّفَاقِ»ترجمہ
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے پوچھا: تم لوگ اور ابوانیس - یعنی ضحاک بن قیس - کیسے ہو؟ اس نے کہا: ہم اور وہ، جب اس سے ملتے ہیں تو اسے وہ کہتے ہیں جو وہ پسند کرتا ہے، اور جب اس سے پیٹھ پھیرتے ہیں تو کچھ اور کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہی وہ بات ہے جسے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہوتے ہوئے نفاق شمار کرتے تھے۔“