حدیث نمبر: 13422
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ عَلِيٍّ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَمْيِ الْجِمَارِ مَا لَهُ فِيهِ؟ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «تَجِدُ ذَلِكَ عِنْدَ رَبِّكَ أَحْوَجَ مَا تَكُونُ إِلَيْهِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے رمی جمار کے بارے میں پوچھا کہ اس میں اس کے لیے کیا فائدہ ہے؟ تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”تم اسے اپنے رب کے پاس اس وقت پاؤ گے جب تمہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13422
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 401، حدیث 13479