حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمِكْيَالُ مِكْيَالُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَالْوَزْنُ وَزْنُ أَهْلِ مَكَّةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پیمانہ اہل مدینہ کا (معتبر) پیمانہ ہے، اور وزن اہل مکہ کا (معتبر) وزن ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى ابْنِ عُمَرَ فَسَأَلَهُ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ، فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ» وَقَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ فِي حَدِيثِهِ: «حَرَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
طاؤس بیان کرتے ہیں: ایک آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے نبیذ الجر (مٹی کے برتن کی نبیذ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے نبیذ الجر سے منع فرمایا۔“ سلیمان بن حرب نے اپنی روایت میں کہا: ”رسول اللہ ﷺ نے اسے حرام قرار دیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، سَنَةَ إِحْدَى عَشْرَةَ وَمِائَتَيْنِ إِمْلَاءً ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَا: سَمِعْنَا طَاوُسًا، يَقُولُ: جَاءَ وَاللهِ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ: «أَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟» قَالَ: نَعَمْ
ترجمہ
طاؤس بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم، ایک آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے نبیذ الجر سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا سُلَيْمَانُ أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ: «أَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ؟» قَالَ: نَعَمْ حَلَفَ لَنَا طَاوُسٌ بِاللهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ ابْنِ عُمَرَ
ترجمہ
طاؤس بیان کرتے ہیں: ایک آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے نبیذ الجر سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ طاؤس نے ہم سے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے یہ بات خود ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنی تھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ وَيْهَكَ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ: سَأَلَ طَاوُسًا عَنِ الشَّرَابِ، فَأَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْجَرِّ، وَالدُّبَّاءِ»
ترجمہ
خلاد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے طاؤس سے شراب (نبیذ کے برتنوں) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے جر اور دباء (کدو کی صراحی) سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: " أَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَنْ يُنْبَذَ فِي الْجَرِّ، وَالدُّبَّاءِ؟ قَالَ: نَعَمْ "
ترجمہ
ابن طاؤس اپنے والد کے واسطے سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے جر اور دباء میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ نَبِيذَ الْجَرِّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نبیذ الجر کو حرام قرار دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ: سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا: فَقَالَ: أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَذَهَبَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ «فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا» ، قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ
ترجمہ
طاؤس سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی، تو انہوں نے فرمایا: کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ فرمایا: انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی، تو عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس گئے اور آپ ﷺ کو یہ بات بتائی، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ رجوع کر لیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے طاؤس کو اس سے زیادہ کچھ کہتے نہیں سنا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ السَّمْتِيُّ، ثنا عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْلَعْتُهُمْ بِعَمَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے انہیں عمار کے خلاف اکسا دیا ہے، وہ انہیں جنت کی طرف بلاتا ہے اور وہ اسے آگ کی طرف بلاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِي تَوْبَةَ النُّمَيْرِيِّ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ كَرَامَةِ الْمُؤْمِنِ عَلَى اللهِ نَقَاءَ ثَوْبِهِ، وَرِضَاهُ بِالْيَسِيرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مومن کی اللہ کے نزدیک عزت میں سے یہ بھی ہے کہ اس کا لباس صاف ستھرا ہو اور وہ تھوڑے پر راضی رہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ فَأَرْسَلَهَا مِنَ الْحَيْفَاءِ فَكَانَ أَمَدُهَا إِلَى ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تَضْمُرْ، وَكَانَ أَمَدُهَا مِنَ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ "
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑوں کی دوڑ کرائی، انہیں حیفاء سے دوڑایا اور ان کی حد ثنیۃ الوداع تک تھی، اور جو گھوڑے سدھائے نہیں گئے تھے ان کی بھی دوڑ کرائی، اور ان کی حد ثنیہ سے مسجد بنی زریق تک تھی۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَسَوِيُّ، ثنا يَحْيَى الْمَقَابِرِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْفِرَ الرَّجُلُ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ بِالْبَيْتِ إِلَّا الْحُيَّضَ رَخَّصَ لَهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَنْفِرْنَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی آدمی روانہ ہو جب تک اس کی آخری ملاقات بیت اللہ سے نہ ہو جائے، سوائے حائضہ عورتوں کے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے روانہ ہونے کی رخصت دی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فِطْرُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَوَاحِدَةً»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر اگر تمہیں صبح ہونے کا خدشہ ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ يُعْطِي عَطِيَّةً، أَوْ يَهَبُ هِبَةً، فَيَرْجِعُ فِيهَا إِلَّا الْوَالِدُ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ فَأَتَمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کوئی عطیہ دے یا ہبہ کرے پھر اسے واپس لے لے، سوائے باپ کے جو اپنی اولاد کو دیتا ہے۔ اور جو شخص عطیہ دے کر پھر اسے واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتا ہے، پھر جب سیر ہو جاتا ہے تو قے کر دیتا ہے، پھر اپنی قے کی طرف لوٹ آتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَفَعَهُ قَالَ: «لَا تُبَاعُ الثَّمَرَةُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پھل اس وقت تک نہ بیچا جائے جب تک اس کی پختگی ظاہر نہ ہو جائے۔“