حدیث نمبر: 13433
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ: سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْفَضِيخِ قَالَ: وَمَا الْفَضِيخُ؟ قَالَ: نَفْضَخُ الْبُسْرَ، ثُمَّ نَجْعَلُ مَعَهُ التَّمْرَ، ثُمَّ نَذَرُهُ وَنَشْرَبُهُ، قَالَ: «ذَلِكَ الْفَضُوخُ وَلَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، وَإِنَّ عَامَّةَ شَرَابِهِمُ الَّذِي تَذْكُرُ»
ترجمہ

ایک آدمی نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فضیخ کے بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: فضیخ کیا ہے؟ اس نے کہا: ہم کچی کھجور کو کچل لیتے ہیں، پھر اس میں خشک کھجور ملا دیتے ہیں، پھر اسے چھوڑ دیتے اور پی لیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یہی فضوخ ہے، اور شراب تو حرام کر دی گئی ہے، اور تم جس کا ذکر کر رہے ہو وہی عام طور پر ان کا مشروب تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 13433
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 404، حدیث 13490