کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَلَّى فِي الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دونوں عیدوں میں خطبے سے پہلے نماز پڑھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11534
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 230، حدیث 11583
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَلَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجُحْفَةِ فَقَالَ: «بِمَ أَحْرَمْتَ يَا عَلِيُّ؟» قَالَ: بِمِثْلِ الَّذِي أَحْرَمْتَ بِهِ يَا رَسُولَ اللهِ، فأَشْرَكَهُ فِي بُدْنِهِ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا يُصَدِّقُ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْأُتْبِيَّةِ فَصَدَّقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ حَقًّا، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: " إِنِّي أَبْعَثُ رِجَالًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيَأْتِي أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: وَاللهِ مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ لَهُمْ حَقًّا، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ، أَلَا جَلَسَ ذَلِكَ فِي حِفْشٍ فَيَنْتَظِرُ مَا هَذَا الَّذِي يُهْدَى لَهُ؟ إِيَّاكُمْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ "، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى نَظَرَ إِلَى بَيَاضِ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ»
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جحفہ میں ملاقات کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! تم نے کس چیز کے ساتھ احرام باندھا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسی چیز کے ساتھ جس کے ساتھ آپ نے احرام باندھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اپنی قربانی کے جانوروں میں شریک کر لیا۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے ایک آدمی بھیجا جسے ابن اتبیہ کہا جاتا تھا، اس نے زکوٰۃ وصول کی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آ کر کہنے لگا: یا رسول اللہ! نہ میں نے حد سے تجاوز کیا اور نہ کوئی حق چھوڑا، اور مجھے ہدیہ دیا گیا تو میں نے وہ ہدیہ قبول کر لیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے اور فرمایا: ”میں کچھ لوگوں کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجتا ہوں تو ان میں سے کوئی آ کر کہتا ہے: اللہ کی قسم! نہ میں نے حد سے تجاوز کیا اور نہ ان کا کوئی حق چھوڑا، اور مجھے ہدیہ دیا گیا تو میں نے وہ قبول کر لیا۔ کیا وہ اپنے (ماں باپ کے) گھر بیٹھ کر یہ انتظار نہیں کر سکتا تھا کہ آیا اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ خبردار! تم میں سے کوئی ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اپنی گردن پر ایک اونٹ اٹھائے آئے جو آواز نکال رہا ہو، یا ایک گائے جو ڈکار رہی ہو، یا ایک بکری جو ممیا رہی ہو۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کیے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کیا، تو وہ مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11535
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 230، حدیث 11584
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشٌ فِي الْعَتِيرَةِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ نَعْتِرُ فِي رَجَبٍ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعِتْرٌ كَعِتْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَلَكِنْ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَذْبَحَ لِلَّهِ فَيَأْكُلَ وَيَتَصَدَّقَ فَلْيَفْعَلْ» ، وَكَانَ عِتْرُهُمْ أَنَّهُمْ يَذْبَحُونَ ثُمَّ يَعْمِدُونَ إِلَى دِمَاءِ ذَبَائِحِهِمْ فَيَمْسَحُونَ بِهَا رُءُوسَ نُصُبِهمْ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: قریش نے رسول اللہ ﷺ سے عتیرہ کی اجازت مانگی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم رجب میں عتیرہ کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”کیا جاہلیت کی عتیرہ جیسی عتیرہ؟ البتہ تم میں سے جو شخص اللہ کے لیے ذبح کر کے کھانا چاہے اور صدقہ کرنا چاہے تو ایسا کر لے۔“ اور ان کی عتیرہ یہ تھی کہ وہ ذبح کرتے، پھر اپنے ذبیحوں کے خون کی طرف جا کر اپنے بتوں کے سروں پر اسے مل دیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11536
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 232، حدیث 11586
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ أَيَّامَ مِنًى صَائِحًا يَصِيحُ: «أَنْ لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَبِعَالٍ» . وَالْبِعَالُ: وِقاعُ النِّسَاءِ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منیٰ کے دنوں میں ایک اعلان کرنے والے کو بھیجا جو پکار رہا تھا: ”ان دنوں میں روزہ نہ رکھو، کیونکہ یہ کھانے پینے اور بِعال کے دن ہیں۔“ اور البِعال سے مراد عورتوں سے مباشرت ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11537
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 232، حدیث 11587
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا سَعْدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا حَرَّكَتِ الْجَنُوبُ بَغْرَةً مِنْ مَطَرِ وَادٍ إِلَّا أسالَتْهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جنوبی ہوا نے کسی وادی میں بارش کا کوئی معمولی اثر بھی نہیں ہلایا مگر اسے بہا دیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11538
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 232، حدیث 11588
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْحَرَشِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ فِي يَمِينِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی انگوٹھی اپنے دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11539
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 233، حدیث 11589
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْخِتَانُ سُنَّةٌ لِلرِّجَالِ، مَكْرُمَةٌ لِلنِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ختنہ مردوں کے لیے سنت ہے اور عورتوں کے لیے باعثِ عزت ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11540
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 233، حدیث 11590
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَا: ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَدَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ فِي بَيْتَيْنِ منْ شَعْرِهِ قَوْلُهُ:
[البحر الطويل]
رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ ... وَنَسْرٌ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ» وَقَوْلُهُ:
وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ ... حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَقَّدُ
تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا ... إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ»
ترجمہ
…رسول اللہ ﷺ نے امیہ بن ابی الصلت کے اشعار میں سے دو اشعار کی تصدیق فرمائی، اس کا شعر تھا:
[بحرِ طویل]
ایک انسان اور ایک بیل اس کے دائیں پاؤں کے نیچے ہیں... اور دوسرے پاؤں کے نیچے ایک عقاب ہے اور ایک شیر گھات میں بیٹھا ہے۔
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اور اس کا یہ شعر بھی:
اور سورج ہر رات کے اختتام پر طلوع ہوتا ہے... سرخ، جس کی رنگت صبح دہکتی ہوئی ہوتی ہے۔
وہ اطمینان سے ہمارے لیے طلوع ہونے سے انکار کرتا ہے... مگر یہ کہ اسے عذاب دیا جائے یا کوڑے مارے جائیں۔
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11541
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 233، حدیث 11591
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُطَرِّزُ، وَعُبَيْدٌ الْعِجْلُ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11542
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 234، حدیث 11592
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَبَّاسِ النَّسَائِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِي اللهُ عَنْهُ صَلَّى بِالنَّاسِ وَهُوَ جُنُبٌ، فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ خَشِيتُ أَنْ يَقْتُلَنِي الْبَرْدُ، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: ٢٩] فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حالتِ جنابت میں لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو لوگوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے انہیں بلا کر اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے خدشہ ہوا کہ سردی مجھے ہلاک کر دے گی، اور اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ”اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت مہربان ہے“ [سورۃ النساء: 29]۔ تو رسول اللہ ﷺ ان کے بارے میں خاموش رہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11543
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 234، حدیث 11593
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَبَّاسِ النَّسَائِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَالَ لِلرَّجُلِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا يَهُودِيُّ، جَلَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ سَوْطًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کسی شخص کو ”اے یہودی!“ کہا تو نبی کریم ﷺ نے اسے بیس کوڑے لگوائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11544
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 234، حدیث 11594
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں صرورہ (یعنی نکاح یا حج سے مکمل کنارہ کشی) کی کوئی گنجائش نہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11545
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 234، حدیث 11595
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ الْكُوفِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْبَلَاغُ: الزَّادُ، وَالرَّاحِلَةُ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”البلاغ سے مراد زادِ راہ اور سواری ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11546
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 235، حدیث 11596
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبِتَّ فِي الْخَمْرِ حَدًّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَشَرِبَ رَجُلٌ مُسْكِرًا فَلُقِيَ يُمَثِّلُ فِي فَحٍّ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا حَاذَى بِدَارِ الْعَبَّاسِ انْفَلَتَ فَدَخَلَ الْعَبَّاسُ فَالْتَزَمَهُ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ وَقَالَ: «أَفَعَلَهَا؟» وَلَمْ يَسْأَلْ عَنْهُ
ترجمہ
…پھر وہ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلا، جب وہ عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے سامنے سے گزرا تو وہ (شخص) چھوٹ کر عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں داخل ہو گیا اور انہوں نے اسے تھام لیا، یہ بات نبی کریم ﷺ سے بیان کی گئی تو آپ ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا: ”کیا اس نے ایسا کیا؟“ اور آپ ﷺ نے اس کے بارے میں مزید کچھ نہ پوچھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11547
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 235، حدیث 11597
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمَّا كَانَ مَرَضُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، جَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَا بِكَلَامٍ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: قَدْ فَهِمْتُ مَا تَقُولُ امْنُنْ عَلَيَّ، فَكَفِّنِّي فِي قَمِيصِكَ وَصَلِّ عَلَيَّ، «فَكَفَّنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَمِيصِهِ ذَلِكَ وَصَلَّى عَلَيْهِ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللهُ أَعْلَمُ أَيَّ صَلَاةٍ كَانَتْ، وَمَا خادعَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانًا قَطُّ
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے تو دونوں کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی، عبداللہ نے کہا: میں سمجھ گیا آپ کیا فرما رہے ہیں، مجھ پر احسان کیجیے اور مجھے اپنی قمیص میں کفن دیجیے اور مجھ پر نماز پڑھیے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے اپنی اسی قمیص میں کفن دیا اور اس پر نماز پڑھی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ ہی بہتر جانتا ہے وہ کیسی نماز تھی، اور محمد ﷺ نے کبھی کسی انسان کو دھوکہ نہیں دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11548
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 235، حدیث 11598
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ خُوَارٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي وقَرَبْتُها قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ قَالَ: «وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟» قَالَ: رَأَيْتُ سَاقَهَا فِي الْقَمَرِ فَأَصَبْتُهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اعْتَزِلْهَا حَتَّى تُكَفِّرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی میں نے اس سے قربت کر لی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے عرض کیا: میں نے چاندنی میں اس کی پنڈلی دیکھ لی تو میں اس کے پاس چلا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک کفارہ ادا نہ کر لے اس سے الگ رہ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11549
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 236، حدیث 11599
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ظَاهَرَ مِنَ امْرَأَتِهِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي ظَاهَرْتُ مِنَ امْرَأَتِي فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا قَبْلَ أَنْ أُكَفِّرَ قَالَ: «وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ يَرْحَمُكَ اللهُ؟» قَالَ: رَأَيْتُ خَلْخَالَهَا فِي ضَوْءِ الْقَمَرِ، قَالَ: «فَلَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
روایت ہے: ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اس نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا اور پھر اس سے مباشرت کر بیٹھا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اس سے مباشرت کر لی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے، تجھے اس پر کس چیز نے آمادہ کیا؟“ اس نے عرض کیا: میں نے چاندنی کی روشنی میں اس کا پازیب دیکھ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک اللہ عزوجل کے حکم کے مطابق کفارہ ادا نہ کر لے اس کے قریب نہ جا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11550
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 236، حدیث 11600
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ، وَلَمْ تُوصِ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ؟»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میری ماں فوت ہو گئیں اور انہوں نے حج نہیں کیا تھا، نہ اس کی وصیت کی تھی، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا اور تم اسے ادا کرتے (تو کیا کافی نہ ہوتا)؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11551
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 236، حدیث 11601
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَيْنَا أُمُّ سَلَمَةَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مُضَاجِعَةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ قَامَتْ كَأَنَّهَا مُسْتَخْفِيَةٌ، فَقَالَ: «مَا لَكِ نَفِسْتِ؟» فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «لَا بَأْسَ خُذِي وُضُوءَكَ، وَارْجِعِي إِلَى مَكَانِكِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک رات سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں لیٹی ہوئی تھیں کہ اچانک وہ چھپتے ہوئے سے انداز میں اٹھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا بات ہے، حیض آ گیا؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی حرج نہیں، اپنا انتظام کر لو اور اپنی جگہ واپس آ جاؤ۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11552
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 237، حدیث 11602
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ، وَلْيَؤُمَّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بہترین لوگ تمہیں اذان دیں، اور تمہارے قاری تمہاری امامت کریں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11553
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 237، حدیث 11603
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ رَضِي اللهُ عَنْهَا يَغْتَسِلَانِ منْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ فيتنازعانِ الْمَاءَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے اور پانی پر ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11554
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 237، حدیث 11604
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ح، وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، قَالَا: ثنا حُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى» فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّا نَأْخُذُ الشَّاةَ الْجَرِبَةَ فَنَطْرَحُهَا فِي الْغَنَمِ فَتَجْرَبُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَعْرَابِيُّ منْ أَجْرَبَ الْأَوَّلَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بیماری خود بخود نہیں لگتی۔“ ایک دیہاتی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم خارش زدہ بکری لے کر بکریوں کے ریوڑ میں ڈال دیتے ہیں تو وہ سب خارش زدہ ہو جاتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے دیہاتی! پہلی بکری کو کس نے خارش زدہ کیا؟“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11555
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 238، حدیث 11605
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّهُ قَالَ: لَيْسَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قِرَاءَةٌ إِلَّا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقْرَأَ وَقَدْ بَلَّغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رِسَالَاتِ رَبِّهِ»
ترجمہ
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ظہر اور عصر میں سورۃ فاتحہ کے سوا کوئی قرأت نہیں ہوتی۔ اس پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں (قرأت کا) حکم دیا، اور رسول اللہ ﷺ اپنے رب کی طرف سے نازل ہونے والے پیغامات پہنچا چکے تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11556
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 238، حدیث 11606
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، ثنا فَائِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَلْقِطُ الْقَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ فَتُوُفِّيَتْ فَلَمْ يُؤْذَنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَفْنِها، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَاتَ فِيكُمْ مَيِّتٌ فآذِنُونِي» وَصَلَّى عَلَيْهَا وَقَالَ: «إِنِّي رَأَيْتُهَا فِي الْجَنَّةِ لِمَا كَانَتْ تَلْقِطُ الْقَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت مسجد سے کوڑا کرکٹ چنا کرتی تھی، وہ فوت ہو گئی تو نبی کریم ﷺ کو ان کی تدفین کی اطلاع نہ دی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی فوت ہو جائے تو مجھے بتایا کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: ”میں نے اسے جنت میں دیکھا، اس لیے کہ وہ مسجد سے کوڑا کرکٹ چنا کرتی تھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11557
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 238، حدیث 11607
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَعْيَنَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا نَظَرَ الْوَالِدُ إِلَى وَلَدِهِ فَسَّرَهُ كَانَ لِلْوَلَدِ عِتْقُ نَسَمَةٍ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنْ نَظَرَ ثَلَاثَمِائَةٍ وَسِتِّينَ نَظْرَةً قَالَ: «اللهُ أَكْثَرُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب باپ اپنی اولاد کو خوش ہو کر دیکھے تو یہ اولاد کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! اگر وہ تین سو ساٹھ بار دیکھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس سے بھی زیادہ (اجر دینے والا) ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11558
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 239، حدیث 11608
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْحَنَفِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُمُّ الْوَلَدِ حُرَّةٌ وإِنْ كَانَ سَقْطًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ام ولد آزاد ہے، اگرچہ بچہ ساقط ہی کیوں نہ ہوا ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11559
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 239، حدیث 11609
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فَضَّلَ مُحَمَّدًا عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ وَعَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ وَمَا فَضْلُهُ عَلَى أَهْلِ السَّمَاءِ؟ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ: {وَمَنْ يَقُلْ مِنْهُمْ إِنِّي إِلَهٌ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ} [الأنبياء: ٢٩] وَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا لِيَغْفِرَ لَكَ اللهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ} [الفتح: ٢] الْآيَةَ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ فَمَا فَضْلُهُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ؟ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ} [إبراهيم: ٤] وَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا} [سبأ: ٢٨] ، فَأَرْسَلَهُ اللهُ إِلَى الْإِنْسِ وَالْجِنِّ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”اللہ عزوجل نے محمد ﷺ کو اہلِ آسمان اور اہلِ زمین سب پر فضیلت دی ہے۔“ ایک شخص نے ان سے عرض کیا: اے ابوعباس! انہیں اہلِ آسمان پر کیا فضیلت حاصل ہے؟ فرمایا: ”اللہ عزوجل اہلِ آسمان سے فرماتا ہے: اور ان میں سے جو کوئی یہ کہے کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں تو ہم اسے جہنم کی سزا دیں گے، ہم ظالموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں [سورۃ الانبیاء: 29]، جبکہ اللہ عزوجل نے محمد ﷺ سے فرمایا: بے شک ہم نے تمہیں کھلی فتح عطا کی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی خطائیں معاف فرما دے [سورۃ الفتح: 2] پوری آیت۔“ پھر ان سے عرض کیا گیا: اے ابوعباس! انہیں انبیاء پر کیا فضیلت حاصل ہے؟ فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اپنی قوم کی زبان کے ساتھ [سورۃ ابراہیم: 4]، جبکہ اللہ عزوجل نے محمد ﷺ سے فرمایا: اور ہم نے تمہیں تمام لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے [سورۃ سبا: 28]، سو اللہ نے انہیں جن و انس دونوں کی طرف بھیجا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11560
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 239، حدیث 11610
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَدَنِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَمْ أَسْمَعْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَلَمْ يَأْمُرْنَا وَقَدْ بَلَّغَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ظہر اور عصر میں قرأت کرتے نہیں سنا، اور آپ ﷺ نے ہمیں (اس کا) حکم بھی نہیں دیا، حالانکہ آپ ﷺ (اپنا پیغام) پہنچا چکے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11561
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 240، حدیث 11611
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كُنْتُ إِلَى جُنُبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كُسِفَتِ الشَّمْسُ، فَلَمْ أَسْمَعْ لَهُ قِرَاءَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس دن سورج گرہن ہوا میں رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں تھا، تو میں نے آپ سے کوئی قرأت نہیں سنی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11562
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 240، حدیث 11612
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَقَامَ مَلِيًّا، ثُمَّ رَكَعَ مَلِيًّا، ثُمَّ قَامَ مَلِيًّا، ثُمَّ رَكَعَ مَلِيًّا، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ أَعَادَ مِثْلَهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے دور میں سورج گرہن ہوا تو آپ ﷺ (نماز میں) دیر تک کھڑے رہے، پھر دیر تک رکوع میں رہے، پھر دیر تک کھڑے رہے، پھر دیر تک رکوع میں رہے، پھر سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت میں) اسی طرح دہرایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11563
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 240، حدیث 11613
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ} [الأنعام: ١٢١] أَرْسَلَتْ فَارِسُ إِلَى قُرَيْشٍ أَنْ خاصِمُوا مُحَمَّدًا وَقُولُوا لَهُ: مَا تَذْبَحُ أَنْتَ بِيَدِكَ بِسِكِّينٍ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا ذَبَحَ اللهُ بِشَمْشِيرٍ منْ ذَهَبٍ فَهُوَ حَرَامٌ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ} [الأنعام: ١٢١] " قَالَ: «الشَّيَاطِينُ منْ فَارِسَ، وَأوْلِيَاؤُهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»
ترجمہ
…اور جسے اللہ نے (طبعی موت سے) ذبح کیا ہو وہ حرام ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اور بے شک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ وہ تم سے جھگڑا کریں“ [سورۃ الانعام: 121]۔ فرمایا: ”شیاطین فارس کے (لوگ) ہیں، اور ان کے دوست قریش میں سے ہیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11564
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 241، حدیث 11614
حَدَّثَنَا أَبُو شَيْخٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَجْلَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ عَلِمَ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى مَغْفِرَةِ الذُّنُوبِ غَفَرْتُ لَهُ، وَلَا أُبَالِي مَا لَمْ يُشْرِكْ بِي شَيْئًا "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: جو یہ جان لے کہ میں گناہ بخشنے کی قدرت رکھتا ہوں، میں اسے بخش دوں گا، اور مجھے کوئی پروا نہیں، جب تک وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11565
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 241، حدیث 11615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَجْلَانَ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوَدِدْتُ أَنَّهَا فِي قَلْبِ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْ أُمَّتِي» يَعْنِي: تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میری خواہش ہے کہ یہ میری امت کے ہر انسان کے دل میں ہو۔“ - یعنی سورۃ تبارک الذی بیدہ الملک۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11566
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 241، حدیث 11616
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ قَالَ: «مَنْ خَالَفَ دِينُهُ دِينَ الْمُسْلِمِينَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ» وَقَالَ: «إِذَا شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ فَلَا سَبِيلَ إِلَيْهِ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَ شَيْئًا فَيُقَامُ عَلَيْهِ حَدُّهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنا دین مسلمانوں کے دین سے بدل ڈالے اس کی گردن اڑا دو۔“ اور فرمایا: ”جب وہ گواہی دے دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں، تو اس کے خلاف کوئی راستہ نہیں سوائے اس کے کہ وہ کوئی ایسا کام کرے جس پر اس پر حد قائم کی جائے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11567
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 242، حدیث 11617
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: مَاتَتْ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَظُنُّهُ سَمَّاهَا صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، بِالْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَسَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَسْجُدُ وَلَمَّا تَطْلُعِ الشَّمْسُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُمَّ لَكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْآيَةَ فَاسْجُدُوا» . وأيَّةُ آيَةٍ أَعْظَمُ منْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يَخْرُجْنَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا، وَنَحْنُ أَحْيَاءٌ؟
ترجمہ
…مدینہ میں (یہ خبر پہنچی)، تو میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے سجدہ کیا۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ سجدہ کر رہے ہیں حالانکہ ابھی سورج طلوع بھی نہیں ہوا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے! کیا تجھے معلوم نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو۔“ اور امہات المؤمنین کا ہمارے درمیان سے، جبکہ ہم زندہ ہوں، دنیا سے رخصت ہو جانا اس سے بڑی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے؟
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11568
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 242، حدیث 11618
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَأَى رَبَّهُ» قَالَ عِكْرِمَةُ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ، أَلَيْسَ اللهُ يَقُولُ: {لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ} [الأنعام: ١٠٣] فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَا أُمَّ لَكَ إِنَّمَا ذَلِكَ إِذَا خَلَا بكَيْفيةٍ لَمْ يَقُمْ لَهُ بَصَرٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”بے شک محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے۔“ عکرمہ نے عرض کیا: اے ابوعباس! کیا اللہ نہیں فرماتا: ”نگاہیں اسے نہیں پا سکتیں، اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے“ [سورۃ الانعام: 103]؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے! یہ تو اس وقت کی بات ہے جب وہ کسی ایسی کیفیت میں ظاہر ہو کہ نگاہ اسے برداشت نہ کر سکے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11569
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 242، حدیث 11619
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَشَّارٍ النَّسَائِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، أَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رُكِّزَتِ الْعَنَزَةُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «فَصَلَّى إِلَيْهَا، وَالظَّعْنُ تَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے سامنے ایک نیزہ (عنزہ) گاڑ دیا جاتا تھا، تو آپ ﷺ اسی کی طرف نماز پڑھتے، اور سواریاں اس کے پیچھے سے گزرتی رہتیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11570
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 243، حدیث 11620
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْقَاسِمِ الصَّيْدَلَانِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كُلُّ سَبَبٍ وَنَسَبٍ مُنْقَطِعٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا سَبَبِي ونَسَبِي»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن ہر رشتہ اور نسب منقطع ہو جائے گا سوائے میرے رشتے اور میرے نسب کے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11571
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 243، حدیث 11621
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَدَنِيُّ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْعَبَّاسِ: " يَا عَمَّاهُ أَلَا أُعَلِّمُكَ أَلَا أَمْنَحُكَ أَلَا أُخْبِرُكَ أَلَا أَفْعَلُ بِكَ عَشَرَ خِصَالٍ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، قَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، سِرَّهُ وَعَلَانِيَتَهُ، صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، خَطَأَهُ وَعَمْدَهُ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِنْهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَاءَةِ أَوَّلَ رَكْعَةٍ قُلْتَ وَأَنْتَ قَائِمٌ سُبْحَانَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُ وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُ وَأَنْتَ قَائِمٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُ: وَأَنْتَ جَالِسٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ فَتَقُولُهَا عَشْرًا فَذَلِكَ خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ، تَفْعَلُ ذَلِكَ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ أَوْ رَمَلٍ عَالِجٍ غَفَرَهَا اللهُ لَكَ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اے چچا جان! کیا میں آپ کو نہ سکھاؤں، نہ آپ کو کچھ عطا نہ کروں، نہ آپ کو نہ بتاؤں، نہ آپ کے ساتھ دس ایسے کام نہ کروں کہ اگر آپ نے ایسا کیا تو اللہ آپ کے تمام گناہ معاف فرما دے گا، اگلے پچھلے، پرانے نئے، پوشیدہ ظاہر، چھوٹے بڑے، بھول چوک سے کیے ہوئے اور جان بوجھ کر کیے ہوئے: (وہ یہ ہے کہ) آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کوئی سورت پڑھیں، جب پہلی رکعت میں قرأت سے فارغ ہوں تو کھڑے کھڑے پندرہ مرتبہ کہیں: سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر، پھر رکوع کریں تو رکوع کی حالت میں دس مرتبہ کہیں، پھر سر اٹھائیں تو کھڑے کھڑے دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ کریں تو سجدے میں دس مرتبہ کہیں، پھر سر اٹھائیں تو بیٹھے بیٹھے دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ کریں تو دس مرتبہ کہیں، پھر سر اٹھائیں تو دس مرتبہ کہیں، یہ (کل ملا کر) پچھتر ہوئے، یہی عمل چار رکعتوں میں دہرائیں، پس اگر آپ کے گناہ سمندر کی جھاگ یا عالج کی ریت کے برابر بھی ہوں تو اللہ انہیں معاف فرما دے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11572
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 243، حدیث 11622
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَزْنِي الزَّانِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَا يَنْتَهِبُ النُّهْبَةَ وَهُوَ مُؤْمِنٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا، اور لوٹ مار کرنے والا جب لوٹ مار کرتا ہے تو وہ مومن نہیں رہتا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11573
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 244، حدیث 11623