المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11557
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، ثنا فَائِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تَلْقِطُ الْقَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ فَتُوُفِّيَتْ فَلَمْ يُؤْذَنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَفْنِها، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا مَاتَ فِيكُمْ مَيِّتٌ فآذِنُونِي» وَصَلَّى عَلَيْهَا وَقَالَ: «إِنِّي رَأَيْتُهَا فِي الْجَنَّةِ لِمَا كَانَتْ تَلْقِطُ الْقَذَى مِنَ الْمَسْجِدِ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت مسجد سے کوڑا کرکٹ چنا کرتی تھی، وہ فوت ہو گئی تو نبی کریم ﷺ کو ان کی تدفین کی اطلاع نہ دی گئی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی فوت ہو جائے تو مجھے بتایا کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: ”میں نے اسے جنت میں دیکھا، اس لیے کہ وہ مسجد سے کوڑا کرکٹ چنا کرتی تھی۔“