❮
❯
حدیث نمبر: 11541
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَا: ثنا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَدَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَيَّةَ بْنَ أَبِي الصَّلْتِ فِي بَيْتَيْنِ منْ شَعْرِهِ قَوْلُهُ:
[البحر الطويل]
رَجُلٌ وَثَوْرٌ تَحْتَ رِجْلِ يَمِينِهِ ... وَنَسْرٌ لِلْأُخْرَى وَلَيْثٌ مُرْصَدُ
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ» وَقَوْلُهُ:
وَالشَّمْسُ تَطْلُعُ كُلَّ آخِرِ لَيْلَةٍ ... حَمْرَاءَ يُصْبِحُ لَوْنُهَا يَتَوَقَّدُ
تَأْبَى فَمَا تَطْلُعُ لَنَا فِي رِسْلِهَا ... إِلَّا مُعَذَّبَةً وَإِلَّا تُجْلَدُ
فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے امیہ بن ابی الصلت کے اشعار میں سے دو اشعار کی تصدیق فرمائی، اس کا شعر تھا: — [بحرِ طویل] — ایک انسان اور ایک بیل اس کے دائیں پاؤں کے نیچے ہیں — اور دوسرے پاؤں کے نیچے ایک عقاب ہے اور ایک شیر گھات میں بیٹھا ہے۔ — تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“ اور اس کا یہ شعر بھی: — اور سورج ہر رات کے اختتام پر طلوع ہوتا ہے — سرخ، جس کی رنگت صبح دہکتی ہوئی ہوتی ہے۔ — وہ اطمینان سے ہمارے لیے طلوع ہونے سے انکار کرتا ہے — مگر یہ کہ اسے عذاب دیا جائے یا کوڑے مارے جائیں۔ — تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11541
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 233، حدیث 11591