❮
❯
حدیث نمبر: 11568
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: مَاتَتْ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَظُنُّهُ سَمَّاهَا صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ، بِالْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ فَسَجَدَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَتَسْجُدُ وَلَمَّا تَطْلُعِ الشَّمْسُ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا أُمَّ لَكَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا رَأَيْتُمُ الْآيَةَ فَاسْجُدُوا» . وأيَّةُ آيَةٍ أَعْظَمُ منْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ يَخْرُجْنَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا، وَنَحْنُ أَحْيَاءٌ؟
ترجمہ

عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کی ازواج میں سے ایک زوجہ کا انتقال ہوا — اسحاق کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ انہوں نے ان کا نام سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بتایا — مدینہ میں انتقال ہوا، تو میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے سجدہ کیا۔ میں نے ان سے عرض کیا: آپ سجدہ کر رہے ہیں حالانکہ ابھی سورج طلوع بھی نہیں ہوا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تیری ماں نہ رہے! کیا تجھے معلوم نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: ”جب تم کوئی نشانی دیکھو تو سجدہ کرو۔“ اور امہات المؤمنین کا ہمارے درمیان سے، جبکہ ہم زندہ ہوں، دنیا سے رخصت ہو جانا اس سے بڑی نشانی اور کیا ہو سکتی ہے؟

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11568
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 242، حدیث 11618