حدیث نمبر: 11548
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَمَّا كَانَ مَرَضُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُبَيٍّ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، جَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمَا بِكَلَامٍ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: قَدْ فَهِمْتُ مَا تَقُولُ امْنُنْ عَلَيَّ، فَكَفِّنِّي فِي قَمِيصِكَ وَصَلِّ عَلَيَّ، «فَكَفَّنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَمِيصِهِ ذَلِكَ وَصَلَّى عَلَيْهِ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَاللهُ أَعْلَمُ أَيَّ صَلَاةٍ كَانَتْ، وَمَا خادعَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْسَانًا قَطُّ
ترجمہ

…نبی کریم ﷺ اس کے پاس تشریف لائے تو دونوں کے درمیان کچھ گفتگو ہوئی، عبداللہ نے کہا: میں سمجھ گیا آپ کیا فرما رہے ہیں، مجھ پر احسان کیجیے اور مجھے اپنی قمیص میں کفن دیجیے اور مجھ پر نماز پڑھیے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اسے اپنی اسی قمیص میں کفن دیا اور اس پر نماز پڑھی۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ ہی بہتر جانتا ہے وہ کیسی نماز تھی، اور محمد ﷺ نے کبھی کسی انسان کو دھوکہ نہیں دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11548
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 235، حدیث 11598