المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: أَقْبَلَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَلَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجُحْفَةِ فَقَالَ: «بِمَ أَحْرَمْتَ يَا عَلِيُّ؟» قَالَ: بِمِثْلِ الَّذِي أَحْرَمْتَ بِهِ يَا رَسُولَ اللهِ، فأَشْرَكَهُ فِي بُدْنِهِ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا يُصَدِّقُ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْأُتْبِيَّةِ فَصَدَّقَ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ حَقًّا، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: " إِنِّي أَبْعَثُ رِجَالًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيَأْتِي أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ: وَاللهِ مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ لَهُمْ حَقًّا، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ، أَلَا جَلَسَ ذَلِكَ فِي حِفْشٍ فَيَنْتَظِرُ مَا هَذَا الَّذِي يُهْدَى لَهُ؟ إِيَّاكُمْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ "، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى نَظَرَ إِلَى بَيَاضِ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ»
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جحفہ میں ملاقات کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! تم نے کس چیز کے ساتھ احرام باندھا؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اسی چیز کے ساتھ جس کے ساتھ آپ نے احرام باندھا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں اپنی قربانی کے جانوروں میں شریک کر لیا۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے ایک آدمی بھیجا جسے ابن اتبیہ کہا جاتا تھا، اس نے زکوٰۃ وصول کی، پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آ کر کہنے لگا: یا رسول اللہ! نہ میں نے حد سے تجاوز کیا اور نہ کوئی حق چھوڑا، اور مجھے ہدیہ دیا گیا تو میں نے وہ ہدیہ قبول کر لیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے اور فرمایا: ”میں کچھ لوگوں کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے بھیجتا ہوں تو ان میں سے کوئی آ کر کہتا ہے: اللہ کی قسم! نہ میں نے حد سے تجاوز کیا اور نہ ان کا کوئی حق چھوڑا، اور مجھے ہدیہ دیا گیا تو میں نے وہ قبول کر لیا۔ کیا وہ اپنے (ماں باپ کے) گھر بیٹھ کر یہ انتظار نہیں کر سکتا تھا کہ آیا اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں؟ خبردار! تم میں سے کوئی ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اپنی گردن پر ایک اونٹ اٹھائے آئے جو آواز نکال رہا ہو، یا ایک گائے جو ڈکار رہی ہو، یا ایک بکری جو ممیا رہی ہو۔“ پھر آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اتنا بلند کیے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سوار کیا، تو وہ مسلسل تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ کو کنکریاں ماریں۔