حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعَابِدِيُّ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «قَدَّمَهُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں مزدلفہ سے (اپنے) کمزور گھر والوں کے ساتھ پہلے بھیج دیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُقْبَةُ بْنُ قَبِيصَةَ، ثنا أَبِي، ثنا فِطْرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْطَرَ الْحَاجِمُ، وَالْمَحْجُومُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدَّمَ ضَعَفَةَ أَهْلِهِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے کمزور گھر والوں کو رات کے وقت مزدلفہ سے پہلے بھیج دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّمَا فَعَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرِيَ الْمُشْرِكِينَ قُوَّتَهُ فَمَنْ شَاءَ فَعَلَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ» - يَعْنِي الرَّمَلَ -
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے یہ (طواف میں تیز چلنا، یعنی رمل) صرف اس لیے کیا تھا تاکہ مشرکین کو اپنی طاقت دکھائیں، اب جو چاہے یہ کرے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقراطيسيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مسبحٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا سُوَيْدٌ أَبُو حَاتِمٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، رَاوِيَةُ عَطَاءٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَنَا الزَّعِيمُ بِبَيْتٍ فِي رباضِ الْجَنَّةِ، وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَاهَا، وَبِبَيْتٍ فِي أَسْفَلِهَا لِمَنْ تَرَكَ الْجَدَلَ وَهُوَ مُحِقٌ، وَتَرَكَ الْكَذِبَ وَهُوَ لاعبٌ وَحَسَّنَ خُلُقَهُ لِلنَّاسِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں اس شخص کے لیے جنت کے باغات میں ایک گھر، جنت کی بلندی میں ایک گھر اور جنت کے نچلے حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دے، مذاق میں بھی جھوٹ بولنا چھوڑ دے، اور لوگوں کے ساتھ اپنا اخلاق اچھا رکھے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بِتُّ فِي بَيْتِ خَالَتِي مَيْمُونَةَ «فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَطْلَقَ الْقِرْبَةَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنِي بِيَمِينِهِ فَأَدَارَنِي مِنْ وَرَائِهِ وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری، رسول اللہ ﷺ رات کے وقت اٹھے، مشکیزہ کھول کر وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، میں نے بھی وضو کیا، پھر آ کر آپ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ سے مجھے پکڑا اور اپنے پیچھے سے گھما کر اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا، چنانچہ میں نے آپ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أَفَاضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ لَا يُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ، ثُمَّ سَارَ عَلَى هَيْئَتِهِ إِلَى جَمْعٍ وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ فَمَا زَالَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ عرفات سے روانہ ہوئے، آپ ﷺ کے پیچھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سوار تھے، اونٹنی اچھل کود کرتی رہی جبکہ آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے جو آپ ﷺ کے سر سے اوپر نہیں جاتے تھے، پھر آپ ﷺ اسی حالت میں مزدلفہ کی طرف چلے، اس بار آپ ﷺ کے پیچھے فضل رضی اللہ عنہ سوار تھے، اور آپ ﷺ جمرہ کی رمی کرنے تک تلبیہ پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَمُوسَى بْنُ هَارُونَ، قَالَا: ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَافَ لِحَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ طَوَافًا وَاحِدًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے حج اور عمرے کے لیے ایک ہی طواف کیا۔
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الساجيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بخيتٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ كَانَ يَتَفَاءَلُ وَلَا يَتَطَيَّرُ، وَكَانَ يُحِبُّ الِاسْمَ الْحَسَنَ»
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، قَالُوا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ وَاصَلُوا إِلَّا أَجْرَى الله عَلَيْهِمُ الرِّزْقَ، وَكَانُوا فِي كَنَفِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا لَيْلًا وَأُسْرِجَ لَهُ فِيهِ سِرَاجًا، فَأَخَذَهُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا وَقَالَ: «رَحِمَكَ اللهُ إِنْ كُنْتَ لَأَوَّاهًا تلَّاءً لِلْقُرْآنِ»
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، قَالُوا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ وَاصَلُوا إِلَّا أَجْرَى الله عَلَيْهِمُ الرِّزْقَ، وَكَانُوا فِي كَنَفِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، قَالَا: ثنا ابْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ، ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا لَيْلًا وَأُسْرِجَ لَهُ فِيهِ سِرَاجًا، فَأَخَذَهُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا وَقَالَ: «رَحِمَكَ اللهُ إِنْ كُنْتَ لَأَوَّاهًا تلَّاءً لِلْقُرْآنِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نیک فال لیتے تھے اور بدشگونی نہیں لیتے تھے، اور آپ ﷺ کو اچھا نام پسند تھا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو گھرانہ رشتہ داری جوڑے رکھتا ہے، اللہ اس پر رزق جاری فرماتا ہے اور وہ اللہ عزوجل کی پناہ میں رہتا ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت ایک قبر میں اترے، اس کے لیے چراغ روشن کیا گیا، آپ ﷺ نے میت کو قبلہ کی طرف سے پکڑا اور اس پر چار تکبیریں کہیں، اور فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے، بیشک تو بہت زیادہ اللہ کے حضور گڑگڑانے والا اور قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنے والا تھا۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو گھرانہ رشتہ داری جوڑے رکھتا ہے، اللہ اس پر رزق جاری فرماتا ہے اور وہ اللہ عزوجل کی پناہ میں رہتا ہے۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کے وقت ایک قبر میں اترے، اس کے لیے چراغ روشن کیا گیا، آپ ﷺ نے میت کو قبلہ کی طرف سے پکڑا اور اس پر چار تکبیریں کہیں، اور فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم فرمائے، بیشک تو بہت زیادہ اللہ کے حضور گڑگڑانے والا اور قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنے والا تھا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَتَّاتُ الْكُوفِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ الْخَزَّازُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا تَخْرُجَ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى تُخْرِجَ الصَّدَقَةَ، وَتُطْعِمَ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ عید الفطر کے دن نکلنے سے پہلے صدقہ (فطرانہ) ادا کر دیا جائے، اور نکلنے سے پہلے کچھ کھا لیا جائے۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَطَّابِيُّ، ثنا أَبُو الْجَوْزَاءِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَجَّاجٍ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے اس حال میں نکاح کیا کہ آپ ﷺ احرام میں تھے۔
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ أَبِي مَخْلَدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ، وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ولی کے بغیر نکاح نہیں، اور جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم (سلطان) ہے۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كِلَاهُمَا، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً» زَادَ أَبُو مُعَاوِيَةَ فِي حَدِيثِهِ مَعِي
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔“
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ طَلِيقٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُما، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: «مَنْ عَادَ مَرِيضًا؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا قَالَ: «مَنْ شَيَّعَ جَنَازَةً؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا قَالَ: «مَنْ جَمَعَهُنَّ فِي يَوْمٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”آج کس نے روزہ رکھا ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس نے کسی مریض کی عیادت کی ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کس نے کسی جنازے کے ساتھ چل کر اسے پہنچایا ہے؟“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ایک دن میں یہ سب کام جمع کر لے وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فَكَبَّرَ فِي نَوَاحِيهِ، وَدَعَا، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ کے اندر تشریف لے گئے، اس کے کونوں میں تکبیر کہی اور دعا کی، پھر باہر تشریف لا کر مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُعْطِيَ أَخَاهُ أَرْضَهُ، فَلْيَمْنَحْهَا إِيَّاهُ أَوْ لِيُزْرِعْهَا إِيَّاهُ وَلَا يُعْطِيهِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو دینا چاہے تو اسے مفت عطیہ کے طور پر دے دے یا اسے کاشت کے لیے دے دے، اور تہائی یا چوتھائی پیداوار پر نہ دے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے اس حال میں نکاح کیا کہ آپ ﷺ احرام میں تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا مُعَلَّى الْجُعْفِيُّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَكا رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعُزوبةَ فَقَالَ: أَلَا أَخْتَصِي؟ فَقَالَ: «لَا، لَيْسَ مِنَّا مَنْ خَصَى أَوِ اخْتَصَى، وَلَكِنْ صُمْ وَوَفِّرْ شَعَرَ جَسَدِكَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے اپنے مجرد (غیر شادی شدہ) ہونے کی شکایت کی اور کہا: کیا میں خصی نہ ہو جاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، جس نے کسی کو خصی کیا یا خود خصی ہوا وہ ہم میں سے نہیں، بلکہ روزہ رکھو اور اپنے جسم کے بال بڑھنے دو۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ أَبُو سَعْدٍ الصَّاغَانِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رُبَّمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يُصَلِّي وَالْحُمُرُ تَعْتَرِكُ بَيْنَ يَدَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے کئی بار رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نماز پڑھ رہے ہوتے اور گدھے آپ ﷺ کے سامنے سے آ جا رہے ہوتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قُمْتُ عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَمَسَحَ عَلَى رَأْسِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوا تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کر دیا، اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «رُخِّصَ لِأَهْلِ السِّقَايَةِ، وَأَهْلِ الْحجابةِ، أَنْ يَبِيتُوا بِمَكَّةَ لَيَالِي بِمِنًى» - يَعْنِي آلَ شَيْبَةَ وَآلَ الْعَبَّاسِ -
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: پانی پلانے (سقایہ) اور بیت اللہ کے دربان (حجابت) کے ذمہ داروں کو اجازت دی گئی کہ وہ منیٰ کی راتوں میں مکہ ہی میں رہیں - یعنی آل شیبہ اور آل عباس کو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَزَّازُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أُتِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ يَوْمَ عَرَفَةَ فَشَرِبَهُ، وَسَقَى الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں دودھ لایا گیا، آپ ﷺ نے اسے پیا اور اپنی دائیں طرف والے شخص کو بھی پلایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا صَبَّاحٌ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْفَرَّاءُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ وَقَالَ: «لَيْسَ لِلنِّسَاءِ فِي الْجَنَازَةِ نَصِيبٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی عورت پر لعنت فرمائی، اور فرمایا: ”جنازے کے ساتھ جانے میں عورتوں کا کوئی حصہ نہیں۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْأكفانيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سُئِلَ عَنْ عَلِمٍ فَكَتَمَهُ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلْجَمًا بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس سے کوئی علم پوچھا جائے اور وہ اسے چھپا لے، وہ قیامت کے دن آگ کی لگام پہنایا گیا ہو گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابَانَ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، ثنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «الْمُتْعَةُ فِي الْحَجِّ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حج میں تمتع کرنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ يَزِيدَ الْقُرَظِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «بُغْضُ بَنِي هَاشِمٍ وَالْأَنْصَارِ كُفْرٌ، وَبُغْضُ الْعَرَبِ نِفَاقٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنو ہاشم اور انصار سے بغض رکھنا کفر ہے، اور عرب سے بغض رکھنا نفاق ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَوْلُهُ " {أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَى مَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ} [النساء: ٥٤] قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «نَحْنُ النَّاسُ دُونَ النَّاسِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: ”کیا یہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا؟“ [سورۃ النساء: 54] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس سے مراد ہم (خاص) لوگ ہیں، عام لوگ نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحَجَرُ الْأَسْوَدُ مِنْ حِجَارَةِ الْجَنَّةِ، وَمَا فِي الْأَرْضِ مِنَ الْجَنَّةِ غَيْرُهُ، وَكَانَ أَبْيَضَ كالمَهَا، وَلَوْلَا مَا مَسَّهُ مِنْ رِجْسِ الْجَاهِلِيَّةِ مَا مَسَّهُ ذُو عَاهَةٍ إِلَّا بَرِئَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حجرِ اسود جنت کے پتھروں میں سے ہے، اور زمین میں اس کے سوا جنت کی کوئی چیز نہیں، یہ چاندنی ہرن کی طرح سفید تھا، اور اگر اسے جاہلیت کی گندگی نے نہ چھوا ہوتا تو جو بھی کسی بیماری میں مبتلا شخص اسے چھوتا وہ ضرور شفا پا جاتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُعْضَدُ شَوْكُ الْحَرَمِ، وَلَا يُقْتَلُ صَيْدُهُ، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهُ، وَلَا يَحِلُّ لُقَطَتُهُ أَلَا لِمُنْشِدٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”حرم کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں، اس کا شکار نہ مارا جائے، اس کی تازہ گھاس نہ کاٹی جائے، اور اس کی گری ہوئی چیز اٹھانا جائز نہیں سوائے اعلان کرنے والے کے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «قَنَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ دَعَا عَلَى قَوْمٍ، وَدَعَا لِقَوْمٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز میں قنوت کی، ایک قوم کے خلاف بددعا کی اور دوسری قوم کے لیے دعا کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَهَبَ هِبَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِهِبَتِهِ مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا، فَإِنْ رَجَعَ فِي هِبَتِهِ فَهُوَ كَالَّذِي يَقِيءُ وَيَأْكُلُ قَيْئَهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کوئی چیز ہبہ (تحفہ) کرے تو وہ اپنے ہبہ کا زیادہ حقدار ہے جب تک اس کے بدلے میں کچھ نہ لے لیا جائے، اور اگر وہ اپنے ہبہ سے واپس پلٹے تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو قے کر کے اپنی قے کھاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا جَلَبَ فِي الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں (زکاۃ کے جانوروں کو دور سے ہانک کر لانا) جَلَب جائز نہیں۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: مَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ حَتَّى قَبَضَهُ اللهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ موزوں پر مسح کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو وفات دے دی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ، فَغُشِي عَلَيْهِ فَنَهَى النَّاسَ يَوْمَئِذٍ أَنْ يَحْتَجِمَ الصَّائِمُ كَرَاهِيَةَ الضَّعْفِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حالتِ روزہ و احرام میں پچھنے لگوائے تو آپ ﷺ پر غشی طاری ہو گئی، اس دن آپ ﷺ نے کمزوری کے اندیشے کی وجہ سے لوگوں کو روزے کی حالت میں پچھنے لگوانے سے منع فرما دیا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَ قَالَ: «إِنَّمَا هُوَ بِمَنْزِلَةِ الْبُزَاقِ أَوِ الْمُخَاطِ أَمِطْهُ عَنْهُ بِخِرْقَةٍ أَوْ بِإِذْخِرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے کپڑے پر لگنے والی منی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تھوک یا ناک کی رطوبت کی طرح ہے، اسے کسی کپڑے یا اذخر گھاس سے صاف کر دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ وَابْنَهُ حَجَّا عَلَى ناضحِهما وَتَرَكَانِي فَقَالَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، إِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تُجْزِئُ مِنْ حَجَّةٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوطلحہ اور ان کے بیٹے اپنے پانی ڈھونے والے اونٹ پر حج کے لیے چلے گئے اور مجھے چھوڑ گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلیم! رمضان میں عمرہ کرنا حج کے قائم مقام ہو جاتا ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَمْ يَحُجَّ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ كُنْتَ قَاضِيَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَحُجَّ عَنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، انہوں نے حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ اگر تمہارے والد پر کوئی قرض ہوتا تو کیا تم وہ ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف سے حج کر لو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَبَّى فِي الْعُمْرَةِ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، وَلَبَّى فِي الْحَجِّ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ عمرے میں حجرِ اسود کو بوسہ دینے تک تلبیہ پڑھتے رہے، اور حج میں یومِ نحر کو جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ شَرِيكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «خَرَجَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ حِينَ افْتَتَحَهَا وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، وَهُوَ صَائِمٌ فَصَامَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا فَبَلَغَهُ أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَصَابَهُمْ عَطَشٌ، وَجَهْدٌ فَدَعَا بِمَاءٍ فَشَرِبَ وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اللہ ﷺ جب مکہ فتح کرنے کے لیے مدینہ سے روانہ ہوئے تو یہ رمضان کا مہینہ تھا، آپ ﷺ روزے سے تھے، چنانچہ آپ ﷺ نے روزہ رکھا یہاں تک کہ قدید پہنچے، وہاں آپ ﷺ کو خبر ملی کہ لوگوں کو پیاس اور تکلیف لاحق ہو گئی ہے تو آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور پی لیا اور روزہ چھوڑ دیا، اس کے بعد جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔
…