المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 11564
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ} [الأنعام: ١٢١] أَرْسَلَتْ فَارِسُ إِلَى قُرَيْشٍ أَنْ خاصِمُوا مُحَمَّدًا وَقُولُوا لَهُ: مَا تَذْبَحُ أَنْتَ بِيَدِكَ بِسِكِّينٍ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا ذَبَحَ اللهُ بِشَمْشِيرٍ منْ ذَهَبٍ فَهُوَ حَرَامٌ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ} [الأنعام: ١٢١] " قَالَ: «الشَّيَاطِينُ منْ فَارِسَ، وَأوْلِيَاؤُهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اور وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو“ [سورۃ الانعام: 121]، تو فارس نے قریش کو پیغام بھیجا کہ محمد ﷺ سے جھگڑا کرو اور ان سے کہو: جسے تم اپنے ہاتھ سے چھری سے ذبح کرو وہ حلال ہے، اور جسے اللہ نے سونے کی تلوار سے ذبح کیا ہو (یعنی جو خود مر جائے) وہ حرام ہے؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اور بے شک شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں یہ بات ڈالتے ہیں کہ وہ تم سے جھگڑا کریں“ [سورۃ الانعام: 121]۔ فرمایا: ”شیاطین فارس کے (لوگ) ہیں، اور ان کے دوست قریش میں سے ہیں۔“